شارجہ : ( خلیج اردو) متحدہ عرب امارات میں سائبر کرائمز کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ شارجہ پولیس نے انلائن فرڈ کرنے والوں پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق انلائن گیمز فراڈ اور بلیک میلنگ کی بڑی وجہ بن رہے ہیں۔ اس کے علاوہ جعلی خیراتی سرگرمیوں کے ذریعے بھی لوگ عوام کو لوٹ رہے ہیں۔
شارجہ میں پولیس نے ایک انوکھے کیس کی تفصیلات جاری کیں ہیں جس میں انلائن فرڈ کرنے والوں نے سات سالہ بچے کے ساتھ فراڈ کیا ہے۔
گلف نیوز کی خبر کے مطابق سات سالے بچے کے ساتھ انلائن گیم پب جی میں فراڈ ہو گیا ہے ۔ ایک انجان شخص نے مذکورہ بچے سے کہا کہ وہ اسے کچھ تصاویریں بھیجے گا توبدلے میں اسے گیم میں ہائی اسکور ملے گا۔ بچے نے جب ان کو وہ تصاویر بھیجیں تو فراڈ کرنے والے نے اسے بعد میں بلیک میل کرنا شروع کیا۔
فراڈ کرنے والے شخص نے بچے کہا کہ وہ اپنے باپ کے بنک کی تفصیلات فراہم کریں۔ ملزم نے بچے کو دھمکی دی کہ وہ اسے پیسے ٹرانسفر کریں ورنہ ان کی تصاویروں کو سوشل میڈیا پر وائرل کیا جائے گا جس کے بعد بچے کے والد نے پولیس کو اطلاع دی ہے ۔
شارجہ پولیس نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی طرح کی ہراسمنٹ اور بلیک میلنگ کی رپورٹ پولیس کو دیں اور بلیک میل ہونے سے بچیں ۔ شارجہ پولیس کے برگیڈیئر ابراہیم آل عجل نے گلف نیوز کو بتایا کہ عوام مجرموں کے سامنے ہتھیار ڈال کر بلیک میل ہونے کے بجائے پولیس کی
مدد لیں۔
برگیڈیئر ابراہیم کے مطابق لوگ اکثر فراڈ کی رپورٹ کرنے کے بجائے خاموشی سے ظلم سہتے ہیں کیونکہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ ان کی ذاتی معلومات کو سوشل میڈیا پر پبلک کیا جائے گا۔
گزشتہ سال سائبر کرایم کے 269 کیسز رپورٹ ہوئے جو سال 2018 کے 256 کیسز کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ ان میں سے اکثر کیسز کا تعلق جنسی ہراسگی ، مالی بلیک میلنگ ، فون اسکیم اور دیگر فراڈ شامل ہیں۔
برگیڈیئر ابراہیم نے مزید بتایا ایکثر صارفین احتیطاطی تدابیر اختیار نہیں کرتے اور استحصال کا شکار ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سائبر فراڈ کو
ڈیل کرنا عام کیسز کے مقابلے میں بہت مشکل ہوتا ہے۔ خاص کر جب فراڈ کرنے والا متحدہ عرب امارات سے باہر رہتا ہو۔
شارجہ پولیس سائبر کرائمز کو روکنے کیلئے ہمہ وقت چوکنا رہتی ہے۔ روزمرہ بنیاد پر دن میں 30 مشتبہ اکاؤنٹس کو بلاک کیا جاتا ہے جس میں پولیس کو ٹیلی کمیونیکیشن کا تعاون حاصل ہے۔
برگیڈئر آل عجل نے وضاحت نے بتایا کہ آج کل فراڈ کرنے والوں نے نیا طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے جس میں وہ کمپنیز کے ای میل کو ہیک کرتے ہیں اور پھر اس میں معمولی ردوبدل کرکے کمپنی کے صارفین کو بتاتے ہیں کہ کمپنی بدل گئی ہے اسی لیے اپنی رقم نئے اکاأنٹس میں ٹرانسفر کریں اور اسی طرح عوام کو لوٹ لیتے ہیں ۔







