راس الخیمہ:(خلیج اردو)راس الخیمہ میں مچلی کا شکار کرنے والے مچھیرے ہیٹ اسٹروک کا شکار بن گئے۔ کئی اماراتی اور ایشیائی مچھیرےہیٹ اسٹروک کی لپیٹ میں آگئے ۔
راس الخیمہ فیشرمن سوسائیٹی کے چیئرمین خلیفہ الموہاری نے خلیج ٹائمز کو بتایا کہ عام طور پر ماہی گیری سے وابستہ افراد صبح ساڑھے پانچ بجے سے دس بجے تک کیلئے کام کرتے ہیں تاہم ان میں سے کچھ زیادہ عرصہ دھوپ میں کام کرنے کے باعث ہیٹ اسٹروک کا شکار بنتے ہیں۔
ڈاکٹر محمد کیوان نے خبردار کیا ہے کہ ہیٹ اسٹروک کو کسی بھی صورت نارمل نہ لیا جائے اور جیسے ہی اثرات ظاہر ہوں ، ڈاکٹر کے پاس تشریف لیجائیں۔ بدن کے درجہ حرارت کا بڑھ جانا، الجھن ، درد سر ، متلی آنا اور جلد کا سرخ ہونا عام علامات ہیں۔
ڈاکٹر کیوان کے مطابق ہیٹ اسٹروک سے موت واقع ہو سکتی ہے اس سے دماغ اور اندورنی اعضاء بری طرح متائثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویسے تو یہ پچاس سال سے زائد عمر کے افراد کیلئے خطرناک ہے تاہم یہ اس قدر شدید ہے کہ جوان کھلاڑی بھی اس سے متائثر ہو سکتے ہیں۔






