خلیجی خبریں

سعودی عرب کے ’سونے والے شہزادے‘ کی طویل کہانی کا اختتام

خلیج اردو
ریاض: سعودی عرب کے شہزادہ الولید بن خالد بن طلال بن عبدالعزیز السعود، جنہیں ’سونے والا شہزادہ‘ کہا جاتا تھا، طویل عرصہ کومہ میں رہنے کے بعد ہفتے کے روز انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کا اعلان شاہی عدالت نے کیا، جس سے تقریباً بیس برسوں پر محیط امید، صبر اور دعا کی ایک داستان اختتام پذیر ہوئی۔

سال 2005 میں پیش آنے والے ایک ٹریفک حادثے نے اس وقت کے 15 سالہ شہزادے کو شدید دماغی چوٹ پہنچائی، جس کے نتیجے میں وہ کومہ میں چلے گئے۔ انہیں دارالحکومت ریاض کے کنگ فیصل اسپیشلسٹ اسپتال میں رکھا گیا، جہاں وہ مسلسل بیس برس تک بستر پر پڑے رہے۔ اسی بنا پر انہیں ’سونے والا شہزادہ‘ کہا جانے لگا۔

ان کی حالت میں معمولی سی حرکت بھی خبر بن جاتی تھی اور ان کے چاہنے والے ہر لمحے معجزے کی امید رکھتے تھے، اگرچہ طبی رپورٹس مسلسل ان کی حالت میں بہتری کے امکان کو رد کرتی رہی تھیں۔

ابتدائی زندگی

شہزادہ الولید اپریل 1990 میں ریاض میں پیدا ہوئے۔ وہ شہزادہ خالد بن طلال بن عبدالعزیز کے بڑے بیٹے تھے، جو معروف سعودی تاجر شہزادہ الولید بن طلال اور شہزادی ریما بنت طلال کے بھائی ہیں۔

حادثے کے وقت وہ عسکری تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ حادثے میں دماغی خون ریزی ہوئی جس کے باعث وہ کومہ میں چلے گئے۔ سعودی عرب سے باہر کے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیموں نے بھی ان کے علاج کی کوشش کی، مگر کامیابی نہ ہو سکی۔

خاندان کی امید

ان کے والد شہزادہ خالد بن طلال نے کبھی امید نہیں چھوڑی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اللہ چاہتا تو حادثے میں ہی ان کا انتقال ہو جاتا، مگر وہ زندہ رہے، اس لیے وہ ان کی شفا کے لیے پرامید رہتے ہیں۔ ہر موقع پر وہ اپنے بیٹے کے سرہانے قرآن پاک کی تلاوت اور دعائیں کرتے رہے۔

2019 میں شہزادی ریما نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں شہزادہ الولید کو معمولی طور پر سر ہلاتے دیکھا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا: ’’اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی تعریف، شہزادہ الولید سر کو ایک طرف سے دوسری طرف ہلا رہے ہیں۔‘‘

شہزادے کی کمرہ ہمیشہ مختلف مواقع کی مناسبت سے سجایا جاتا، چاہے وہ رمضان ہو، عید ہو یا قومی دن۔

نماز جنازہ

شہزادہ الولید کی نماز جنازہ اتوار 20 جولائی کو عصر کی نماز کے بعد امام ترکی بن عبداللہ مسجد، ریاض میں ادا کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button