(خلیج اردو ) اسرائیل نے متحدہ عرب امارات سے حال ہی میں مذاکرات کے بعد اعلان کیا ہے کہ اردن کے بادشاہ عبداللہ مسجد اقصی کے نگہبان رہنگے جبکہ امریکی حکام نے اسرائیل کو مشورہ دیا ہے کہ مسجد اقصی کو مسلمانوں کے لئے کھولنے سے اسرائیل سے مسلمانوں کی نفرت میں کمی کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے اور مسلمان ممالک سے تعلقات میں بہتری آسکتی ہے ۔
امریکہ نے واضح کیا ہے کہ امریکہ نے کسی ملک پر دباو نہیں ڈالا کہ اسرائیل سے تعلقات عامہ استوار کرے یہ ہر ملک کی اپنی پالسی ہے مگر امریکہ دنیا میں پر امن مذاکرات کا خواہاں ہے ۔
امریکہ کی طرف سے بیان جاری ہوا ہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مذاکرات خوش ائند ہے اور اس دور است بہترین نتائج برآمد ہونگے کیونکہ خطے میں دونوں ممالک کا کافی اثر رسوخ ہے جو دونوں ممالک کے لوگوں کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگا ۔
اسرائیل کے عوام اس معاہدہ پر بیت خوش ہے کہ اب دبئی سے دنیا کے دیگر ممالک ست سفر کرنے میں آسانی پیدا ہوجائے گی اور متحدہ عرب امارات کے عوام بھی خوش ہیں کہ اب وہ اسرائیل کا سفر کر سکتے ہیں ۔
اسرائیل نے واضخ کیا کہ اردن کے بادشاہ عبداللہ مسجد اقصی کے نگہبان ہونگے اور تمام دنیا سے مسلمان مسجد اقصی عبادت کے لئے اہ سکتے ہیں ۔ اسرائیل نے بیان جاری کیا ہے کہ مسلمانوں کو آکر دیکھنا چاہئے کہ مسجد اقصی پر کوئی قبضہ نہیں ہے بلکہ ایک آزادنہ عبادت گاہ ہے ۔
متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین عداوت ختم ہوئی ہے اور 26 سالوں میں یہ اس خطے میں پہلا امن معاہدہ ہے جبکہ گزشتہ 70 سالوں میں اسرائیل کے ساتھ یہ تیسرا بین القوامی معاہدہ ہے ۔
امریکہ نے اسرائیل اور فلسطین مسلے کا حل دو ریاستوں کے بنیاد سے ممکن قرار دیا ہے اور اسرائیل بھی فلسطینی ریاست کی خدوخال طے کرنے کے لئے تیار ہے ۔ امریکہ کے مطابق اب فلسطین کو فیصلہ کرنا ہے کہ ساری عمر جدوجہد جاری رہے گئی یا کوئی عملی اقدام بھی اٹھاتا جائے گا تاکہ دونوں ریاستوں کے مابین امن قائم کیا جاسکے ۔
Source : Khaleej Times







