خلیج اردو
17 نومبر 2020
اسلام آباد: پاکستان نے پیر کے روز عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی، فیصلہ کورونا وائرس کے کیسز میں بے تحاشہ اضافے کے بعد کیا گیا۔
جولائی کے بعد پاکستان نے کورونا وائرس سے متائثرہ مریضوں کی سب سے زیادہ تعداد چار متواتر دنوں تک ریکارڈ کرائی ہے۔ دوسری طرف ملک کے مختلف شہروں میں اپوزیشن جماعتوں اور مذہبی گروپوں کی جانب سے متعدد اجتماعات کیے گئے ہیں۔
جلسوں پر پابندی کا فیصلہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے سناتا یہوا کہا کہ خدشہ ہے کہ اسپتال میں مریضوں کی تعداد اس قدر بڑھ جائے گی کہ پھر مریضوں کو اسپتالوں میں داخلے کی جگہ نہیں ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام نے ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا تو اسپتالوں میں وہ صورت حال ہوجائے گی جو جون میں ہوئی تھی۔
قومی ٹیلی ویژن پر خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہم نے کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر پاکستان میں ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی عائد کی ہے۔ انہوں نے گزشتہ چار دنوں میں کیسز میں دوہزار سے زائد تعداد کے ریکارڈ کیے جانے پر خدشے کا اظہار کیا۔
پاکستان میں جون میں سب سے زیادہ تعداد ایک ہی دن میں 6800 کیسز ریکارڈ ہوئے تھے۔ جس کے بعد اگست اور باقی مہینوں میں تعداد 213 اور پھر 700 سے کم رہ گئی۔
کراچی کی جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سنٹر کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمن جمالی نے خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ لوگ کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ لوگ احتیطاط کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بچایا جا سکے۔
اس وقت ملک میں کورونا وائرس کے رجسٹرڈ کیسز کی تعداد 359032 جبکہ کوویڈ 19 سے اموات کی تعداد 7160 ہے۔
Source : Khaleej Times






