پاکستانی خبریں

۲۷ویں آئینی ترمیمی بل ۲۰۲۵ کا مسودہ منظر عام پر آگیا ۲۷ویں آئینی ترمیمی بل ۲۰۲۵ کا مسودہ منظر عام پر آگیا

خلیج اردو
اسلام آباد: 27ویں آئینی ترمیمی بل 2025 کا مسودہ منظر عام پر آ گیا ہے، جس میں آئین کے 48 مختلف آرٹیکلز میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔ اس ترمیم کے ذریعے عدلیہ، وفاقی حکومت، اور عسکری قیادت کے ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

مسودے کے مطابق، وفاق میں سپریم کورٹ سے علیحدہ نئی وفاقی آئینی عدالت قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کی مدت ملازمت تین سال مقرر کی گئی ہے اور جج 68 برس کی عمر میں ریٹائر ہوں گے۔ وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے سپریم کورٹ کے فیصلوں پر لازم نہیں ہوں گے، جبکہ سپریم کورٹ کی آئینی اختیارات نئی عدالت کو منتقل کر دی گئی ہیں۔

عدلیہ سے متعلق دیگر ترامیم میں آرٹیکل 243 میں تبدیلی شامل ہے، جس کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کیا جا رہا ہے اور آرمی چیف کو چیف آف ڈیفنس فورسز کا اضافی عہدہ دیا جائے گا۔ علاوہ ازیں، فیلڈ مارشل کو قومی ہیرو کا درجہ اور تاحیات مراعات دینے کی تجویز شامل ہے۔

وفاقی حکومت کی اختیارات میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، آرٹیکل 93 میں ترمیم کے تحت وزیرِاعظم کو سات مشیروں کی تقرری کا اختیار دیا گیا ہے جبکہ آرٹیکل 130 میں ترمیم کے ذریعے وزرائے اعلیٰ کے مشیروں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے۔

یہ مسودہ آئینی اور سیاسی ڈھانچے میں نمایاں تبدیلیوں کی وضاحت کرتا ہے اور ملک کی عدلیہ اور عسکری قیادت کے مابین اختیارات کے توازن کو نئے سرے سے منظم کرنے کی کوشش ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button