پاکستانی خبریں

کسی اور جماعت کے ساتھ اتحاد کیے بغیر سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے، مولانا فضل الرحمن

بڑوں، عورتوں، بچوں پر بمباری دفاع میں ہوتی ہے، مولانا فضل الرحمن

خلیج اردو
اسلام آباد: جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ اپوزیشن سیاسی جماعتوں کے ساتھ اشتراک عمل جاری رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذہبی جماعتوں کے رابطے قائم کرنا ایک مثبت کام ہے، جو ملک کی سیاسی صورتحال میں بہتری کا باعث بنے گا۔ مولانا فضل الرحمن نے بتایا کہ ایک عرصہ ہوچکا تھا کہ وہ منصورہ نہیں جا سکے تھے، تاہم پروفیسر خورشید کی وفات پر تعزیت کرنے منصورہ گئے تھے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا کا کہنا تھا کہ علماء کے اکٹھے بیٹھنے سے فائدہ اٹھانا چاہیے تاکہ ملک میں ایک مضبوط دینی اور سیاسی اتحاد قائم ہو سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ بات چیت ایک سال سے چل رہی ہے اور ان کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پی ٹی آئی سے پہلے ملتے نہیں تھے، لیکن اب بے تکلفی سے مل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اصولی طور پر الیکشنز صاف اور شفاف ہونے چاہئیں اور یہ الیکشن کمیشن کے ماتحت ہونے چاہئیں۔ سوال اٹھایا کہ اسٹبلشمنٹ کیوں انتخابات میں مداخلت کرتی ہے اور عملہ کیوں تعینات کراتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا کہ اسٹبلشمنٹ کو کوئی حق نہیں کہ وہ پک اینڈ چوز کرے۔ انہوں نے اداروں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اداروں کو ملک کے دفاع کے لیے ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل جنگی مجرم ہے اور عالمی عدالت انصاف نے اس کی گرفتاری کا حکم دے رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغرب اور امریکہ ان جنگی جرائم کی پشت پناہی کر رہے ہیں، جبکہ عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی ان جنگی جرائم کی حمایت کر رہی ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جے یو آئی فلسطینی کاز میں صف اول کے حامی ہیں اور پارٹی ملک بھر میں فلسطین کے حق میں ملین مارچ کر رہی ہے۔ 27 اپریل کو لاہور میں فلسطین کے حق میں ملین مارچ ہوگا جس میں پنجاب کے عوام فلسطین کی حمایت میں باہر آئیں گے۔ اسی طرح 11 مئی کو پشاور اور 15 مئی کو کوئٹہ میں بھی ملین مارچ ہوں گے۔

مولانا فضل الرحمن نے پاکستانی قوم اور تاجروں سے اپیل کی کہ وہ مالی جہاد میں شریک ہوں، اور معصوم فلسطینیوں کو سفاک ملک کے حوالے نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ کے پی، بلوچستان اور سندھ میں بدامنی کی صورتحال ناقابل بیان ہے اور مسلح دہشتگرد آزادانہ طور پر دندناتے پھرتے ہیں، جبکہ کہیں بھی حکومت کی رٹ نہیں ہے۔ والدین اپنے بچوں کو سکول بھیجنے سے خوفزدہ ہیں اور کاروباری طبقہ پریشان ہے کیونکہ تاجروں سے منہ مانگے بھتے مانگے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور سیکیورٹی ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہو چکے ہیں اور وفاقی و صوبائی حکومتیں دھاندلی کے نتیجے میں ناکام ہو چکی ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے 2018 اور 2024 کے انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیا اور ان کے نتائج کو مسترد کیا۔ ان اسمبلیوں کو عوامی نمائندہ نہیں کہا جا سکتا۔ جے یو آئی نے اپنے پلیٹ فارم سے سیاسی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

فلسطین کے معاملے پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ مسلم حکومتیں، امہ اور ہماری باتوں کو سنجیدہ نہیں لے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی پالیسیوں کے خلاف مغرب اور امریکہ میں لوگ باہر نکلے ہیں اور عوامی سطح پر دنیا بھر میں جنگ کے خلاف لوگ باہر نکلے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button