پاکستانی خبریں

آئی ایم ایف نے مڈل ایسٹ اینڈ سینٹرل ایشیا ریجنل اکنامک آؤٹ لک رپورٹ جاری کر دی

خلیج اردو
اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی مڈل ایسٹ اینڈ سینٹرل ایشیا ریجنل اکنامک آؤٹ لک رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں پاکستان کی معیشت کے 2024 کے بحران کے بعد 2025 میں استحکام کی راہ اختیار کرنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، مالی سال 2024 میں پاکستان کی جی ڈی پی کی شرحِ نمو صرف 2.1 فیصد رہی۔ اس سال میں مہنگائی کی اوسط شرح 26.5 فیصد تک پہنچ گئی اور روپے کی قدر پر دباؤ رہا۔ اس کے علاوہ زرمبادلہ ذخائر کمزور اور مالیاتی خسارہ بلند سطح پر رہا۔

تاہم، 2025 میں معیشت میں بہتری متوقع ہے، جی ڈی پی گروتھ 3 فیصد تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے مہنگائی 11 تا 12 فیصد تک کم ہو گی۔ ترسیلاتِ زر اور برآمدات میں اضافے سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 3 تا 3.5 فیصد جی ڈی پی تک محدود رہا۔

آئی ایم ایف نے پاکستان کی مالی پالیسی کو محتاط اور استحکامی قرار دیا ہے، اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ، مالیاتی منڈیوں میں قدرے بہتری دیکھی گئی۔ 2026 کے لیے جی ڈی پی شرحِ نمو کا ہدف 3.6 فیصد رکھا گیا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2026 میں بجلی سبسڈی کے خاتمے سے مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے، لیکن توانائی اصلاحات اور محصولات میں بہتری سے مالی استحکام برقرار رہنے کی توقع ہے۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کو بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا کہ نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور گورننس اصلاحات سے دیرپا ترقی ممکن ہو گی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان نے 2024 سے 2026 کے دوران استحکام، اصلاحات اور بحالی کے تین مراحل طے کیے ہیں اور اب معیشت استحکام سے پائیدار ترقی کی طرف بڑھ رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button