
خلیج اردو: پاکستان کے صدر عارف علوی کے دورہ بلوچستان کے موقع پر گزشتہ روز ضلع سبی میں منعقدہ سالانہ ثقافتی میلے میں شرکت کے دوران ایک دھماکے میں کم از کم پانچ سکیورٹی اہلکار ہلاک اور 28 دیگر زخمی ہو گئے۔ دھماکہ ایک کھلے علاقے کے قریب ہوا جہاں میلہ لگا ہوا تھا۔
پولیس حکام نے بتایا کہ دھماکے میں پانچ سکیورٹی اہلکار جاں بحق ہو گئے ہیں۔ تاہم، فوری طور پر کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
ایران اور افغانستان کی سرحد سے متصل بلوچستان ایک طویل عرصے سے جاری پرتشدد شورش کا گڑھ ہے۔ بلوچ باغی گروپوں نے اس سے قبل خطے میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے منصوبوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بناتے ہوئے کئی حملے کیے ہیں۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکا اس وقت ہوا جب صدر علوی جب سالانہ فیسٹیول میں شرکت کے بعد جیسے ہی وہ وہاں سے نکل کر چلے گئے۔
ڈان اخبار نے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار حفیظ رند کے حوالے سے بتایا کہ "دھماکہ صدر علوی کے سبی میں میلے میں شرکت کے 30 منٹ بعد ہوا،”
رند نے کہا کہ بظاہر یہ خودکش دھماکہ تھا۔ تاہم تفتیش جاری جاری ہے۔
بلوچستان کے محکمہ صحت کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر وسیم بیگ نے بتایا کہ کم از کم 28 زخمیوں کو سول اسپتال لایا گیا، جن میں سے پانچ کی حالت تشویشناک ہے۔
میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سول اسپتال ڈاکٹر سرور ہاشمی نے بتایا کہ زخمیوں میں زیادہ تر سیکیورٹی اہلکار ہیں۔ ہاشمی نے مزید کہا کہ شدید زخمیوں میں سے پانچ کو صوبائی دارالحکومت کوئٹہ منتقل کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکام کو دھماکے میں زخمی ہونے والوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
جمعے کو پشاور میں ایک شیعہ مسجد کے اندر داعش کے ایک خودکش بمبار نے اجتماع کے دوران خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں 63 افراد جاں بحق اور 200 سے زائد زخمی ہوئے۔
2 مارچ کو کوئٹہ کے فاطمہ جناح روڈ پر پولیس وین کے قریب بم دھماکہ ہوا جس میں ایک سینئر پولیس افسر سمیت 3 افراد جاں بحق اور 24 زخمی ہوئے۔
2 فروری کو بلوچستان کے علاقے پنجگور اور نوشکی میں سیکیورٹی فورسز پر حملے میں 9 فوجی اور 20 عسکریت پسند مارے گئے تھے۔






