
خلیج اردو
اسلام آباد: پاکستان نے ایک بار پھر بھارتی ریاستی دہشت گردی کو عالمی برادری کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے، جہاں حاضر سروس بھارتی فوجی افسران اور اہلکار پاکستان میں دہشت گردی کا منظم نیٹ ورک چلا رہے ہیں۔ پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے پریس بریفنگ میں اس حوالے سے ٹھوس شواہد پیش کیے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں تعینات میجر سندیپ ورما عرف سمیر، صوبےدار سکھوندر اور حوالدار امیت پاکستان میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کے سرغنہ ہیں۔ ان بھارتی ہینڈلرز کی آڈیو کالز، واٹس ایپ پیغامات، اور رقوم کی ترسیل کے ثبوت میڈیا کے سامنے رکھے گئے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے مطابق 25 اپریل کو بھارتی ایجنٹ مجید کو جہلم سے گرفتار کیا گیا، جس کے قبضے سے آئی ای ڈی، بھارتی ڈرون اور دو موبائل فون برآمد ہوئے۔ ان کے ذریعے وہ بھارت میں موجود ہینڈلر صوبےدار سکھوندر سے رابطے میں تھا، جبکہ نیٹ ورک کی قیادت میجر سندیپ ورما کر رہا تھا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق مجید نے بلوچستان سے لاہور تک دہشت گرد نیٹ ورک کے تحت کئی حملے کیے، جن میں 13 اکتوبر 2024 کو باغ آزاد کشمیر میں دھماکا اور 30 نومبر کو جلا پور جٹاں میں فوجی گاڑی پر آئی ای ڈی حملہ شامل ہے، جن میں مجموعی طور پر سات فوجی جوان زخمی ہوئے۔ ان کارروائیوں کے بدلے مجید کو لاکھوں روپے دیے گئے، جب کہ اسے 24 اپریل کو ایک اور حملہ کرنے کا حکم ملا، لیکن اگلے ہی دن وہ گرفتار کر لیا گیا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر جھوٹے الزامات لگانے کے برعکس، پاکستان کے پاس پختہ ثبوت موجود ہیں، اور یہ ابھی صرف ایک نیٹ ورک کا انکشاف ہے، مزید شواہد بھی جلد منظر عام پر لائے جائیں گے۔






