پاکستانی خبریں

ممکنہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں معاشی استحکام کیلئے اقدامات، وزیراعظم کی کفایت شعاری پالیسی پر مشاورت، تنخواہوں و مراعات میں ممکنہ کمی اور وسائل کے محتاط استعمال کی ہدایت

خلیج اردو
وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر معاشی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے کفایت شعاری اور سادگی پر مبنی تجاویز اور سفارشات کی بنیاد پر حتمی لائحہ عمل طے کرنے کے لیے اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، اویس لغاری، علی پرویز ملک، عطا اللہ تارڑ، مصدق مسعود ملک اور ہارون اختر سمیت چاروں صوبوں کے نمائندوں اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موجودہ علاقائی اور عالمی صورتحال کے باعث پاکستان کی معیشت پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جبکہ توانائی کی فراہمی اور عالمی منڈیوں میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے حوالے سے چیلنجز درپیش ہو سکتے ہیں۔

بریفنگ میں کہا گیا کہ موجودہ بین الاقوامی حالات کے تناظر میں معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے بروقت اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور قومی معیشت کا استحکام اولین ترجیح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشکل حالات میں حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کرے گی۔

وزیراعظم نے وفاقی کابینہ، منتخب نمائندوں اور اعلیٰ سرکاری افسران کو وسائل کے مؤثر استعمال اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنے کی ہدایت کی جبکہ تمام سرکاری ملازمین اور وزرا کو سادگی اور کفایت شعاری اختیار کرنے کی تلقین کی۔

اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ کفایت شعاری اور بچت سے متعلق ہدایات صنعتی اور زرعی شعبوں پر لاگو نہیں کی جائیں گی تاکہ ملکی پیداوار، برآمدات اور غذائی تحفظ متاثر نہ ہوں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کے مناسب ذخائر موجود ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظامات مکمل ہیں۔

اجلاس میں توانائی کے دانشمندانہ اور محتاط استعمال پر زور دیتے ہوئے سرکاری وسائل کی بچت اور توانائی کے مؤثر استعمال کے لیے طلب اور رسد کی مسلسل نگرانی کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

چاروں صوبوں کے نمائندوں نے بھی عالمی کشیدگی کے تناظر میں اپنے اپنے منصوبے پیش کیے اور صوبوں میں معاشی سرگرمیوں اور توانائی کے استعمال سے متعلق سفارشات سے آگاہ کیا۔

وزیراعظم نے انتظامی تیاریوں کے حوالے سے صوبوں کو مؤثر عملدرآمد کی ہدایت کی اور کہا کہ گھروں سے کام کرنے اور ڈیجیٹل رابطوں کے نظام میں کسی قسم کا تعطل نہیں آنا چاہیے۔

انہوں نے آن لائن کام کرنے والوں کے لیے بلا رکاوٹ انٹرنیٹ سہولت کی فراہمی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی جبکہ ذرائع کے مطابق قومی کفایت شعاری منصوبے کے تحت وفاقی کابینہ کے ارکان بھی اپنا کردار ادا کریں گے اور صورتحال بہتر ہونے تک تنخواہوں اور مراعات میں کمی کا امکان بھی زیر غور ہے۔

ماہرین کے مطابق عالمی کشیدگی کے ماحول میں بروقت کفایت شعاری اقدامات پاکستان کی معیشت کو ممکنہ دباؤ سے بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button