اسلام آباد کے سیکٹر G-7/2 میں اتوار کی شب ایک گھر میں ہونے والے خوفناک دھماکے میں کم از کم آٹھ افراد جاں بحق اور 12 زخمی ہو گئے۔ جاں بحق افراد میں دلہا اور دلہن بھی شامل ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ ممکنہ طور پر گیس لیکیج کے باعث ہوا۔
دھماکہ شادی کی دعوت ختم ہونے کے کچھ ہی دیر بعد پیش آیا، جس کے نتیجے میں قریبی مکانات کو بھی شدید نقصان پہنچا اور متعدد سڑکیں بند کرنا پڑیں تاکہ امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ پیش نہ آئے۔ ریسکیو ٹیموں نے جدید آلات کی مدد سے ملبے تلے دبے افراد کو نکالا۔
اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر صاحبزادہ یوسف کے مطابق دلہا، دلہن اور خاندان کے کئی افراد جاں بحق ہوئے۔ زخمیوں کو پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اور کیپیٹل اسپتال منتقل کیا گیا، جن میں سے بعض کو شدید جھلسنے کی چوٹیں آئیں۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کی اور متعلقہ حکام کو زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ ساتھ ہی واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم بھی دیا گیا۔
پاکستان میں گیس سلنڈر پھٹنے کے واقعات پہلے بھی سنگین جانی نقصان کا باعث بنتے رہے ہیں، کیونکہ کم گیس پریشر کے باعث بہت سے گھروں میں سلنڈر استعمال کیے جاتے ہیں۔ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ دل دہلا دینے والا سانحہ خوشیوں کو ماتم میں بدل گیا۔ انہوں نے حفاظتی اقدامات اور عوامی آگاہی بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
حکام نے دھماکے کے صحیح اسباب جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔






