پاکستانی خبریں

شاہ رخ جتوئی قتل کیس فیصلہ : عوام میں غم و غصے کو دیکھتے ہوئے حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا

خلیج اردو

اسلام آباد: شاہ زیب قتل کیس میں شاہ رخ جتوئی کی بریت کامعاملہ اٹارنی جنرل آفس نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی پٹیشن دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا. اٹارنی جنرل آفس نے سپریم کورٹ سے اظہار تشویش کیلیے خط کا ڈرافٹ تیار کرلیا.

اٹارنی جنرل افس کی جانب سے لکھے گئے خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ شاہ رخ جتوئی کی بریت کےفیصلے سے قبل اٹارنی جنرل آفس سے رائے طلب نہیں کی گئی جبکہ سپریم کورٹ اس معاملے کو پہلے ہی اہم آئینی معاملہ قرار دے چکی ہے.

 

متعلقہ مضامین / خبریں

خط میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے اہم آئینی معاملات پر پہلے بھی اٹارنی جنرل کی رائے طلب کی جاتی رہی ہے. جبران ناصر کیس میں اٹارنی جنرل آفس پہلےہی قرار دےچکاہے کہ معاملہ دہشتگردی کا ہے. بریت فیصلےمیں سپریم کورٹ دہشتگردی جرائم پر عدالتی فیصلوں سےہٹ کرنتیجے پرپہنچی ہے. سمجھوتے،فساد فی الارض اور دیگر معاملات میں اس کیس پر نظر ثانی بنتی ہے

 

قبل ازیں جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ  نے شاہ زیب قتل کیس میں شاہ رخ جتوئی سمیت دیگر ملزمان کی بریت کی درخواست پر سماعت کی۔ملزمان کے وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ  ملزمان کا دہشت پھیلانےکا کوئی ارادہ نہیں تھا ۔۔۔قتل کودہشتگردی کا رنگ دیا گیا، فریقین کا پہلے ہی راضی نامہ ہوچکا ہے، اس لئے ملزمان کو بری کیا جائے۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے شاہ رخ جتوئی سمیت تمام ملزمان کو بری کردیا۔

 

مشہور زمانہ شاہ زیب قتل کا واقعہ دسمبر 2012 میں اس وقت پیش آیا جب شاہ زیب  کی بہن سے بدتمیزی کرنے کے معاملے پر تلخ کلامی ہوئی ۔جس کے بعد شاہ رخ جتوئی اور اس کے ساتھیوں نے  فائرنگ کر کے شاہ زیب  کو قتل کر دیا تھا

 

2013 میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے شاہ رخ جتوئی اور نواب سراج کو سزائے موت جبکہ دو ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔فیصلے کے خلاف شاہ رخ جتوئی کے وکلا نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔

 

2017 میں شاہ زیب کے اہل خانہ نے دیت کے قانون کے تحت ملزم شاہ رخ جتوئی کو معاف کر دیا تھا جس کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔2018 میں سپریم کورٹ نے معاملے کا ازخود نوٹس لے کر سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزمان کی دوبارہ گرفتاری کا حکم دیا تھا۔

 

Source: Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button