خلیج اردو آن لائن:
سوال:
میں دبئی میں ایک کمپنی کے لیے کام کرتا ہوں۔ میرا لیبر کنٹریکٹ لیبر کی وزارت سے تصدیق شدہ ہے۔ اس سےپہلے میں اپنی موجودہ کمپنی کے حکم پر ایک کمپنی کے لیے 3 سال تک کام کرتا رہا ہوں۔ ایک سال پہلے مجھے موجودہ کمپنی سے تنخواہ ملی تھی، اور ایک ماہ پہلے مجھے نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔ اب مجھے دونوں کمپنیاں ہی میری تنخواہ دینے سے انکاری ہیں۔ اس صورتحال میں کون میری واجب الادا تنخواہ دینے کا ذمہ دار؟ کیا میں ملازمت سے فارغ سمجھا جاوں گا؟
جواب:
اگر آپ کی ملازمت کا کنٹریکٹ پچھلی کمپنی کے ساتھ تھا اور اگر آپ پچھلی کمپنی کے احکامت پر کام کر رہے تھے تو آپ کی موجودہ کو چاہیے کہ آپ کو ایک برطرفی کا خط لکھ کر نوکری سے برطرف کرے بصورت دیگر سرکاری سطح پر آپ کو برطرف نہیں سمجھا جائے گا۔
مزید برآں جس کمپنی کے ساتھ آپ کی ملازمت کا کنٹریکٹ ہوا تھا وہی آپ کو آپ کی تنخواہ دینے کی ذمہ دار ہے۔ عدالت میں ان دونوں کے درمیان مقدمہ درج کروانا ہوگا۔ آپ کو دوسری کمپنی کو بھی مقدمے میں فریق بنانا چاہیے کیونکہ وہ کمپنی آپ کو کئی ماہ تک تنخواہ دیتی رہی ہے۔ لہذا عدالت کو دی گئی درخواست میں تنخواہ کی ادائیگی کے لیے آپ کو دوںوں کمپنیوں کو ذمہ دار ٹھرانا ہوگا، باقی عدالت فیصلہ کرے گی کہ آٰیا دوسری کمپنی آپ کی تنخواہ دینے کی پابند ہے یا نہیں۔
2014 کے وفاقی قانون نمر 10 کے مطابق متاثرہ فریق قانوننی چارہ جوئی میں کسی بھی ایسے فریق کو شامل کر سکتا ہے جس کے خلاف دعوے کو درست طریقے سے اٹھایا جا سکے۔
مدعا علیہ اگر سچا ہونے کا دعوے دار ہے تو مقدمے کو دیکھنے والے آفس یا عدالت کو تحریری درخواست جمع کروا سکتا ہے۔ دبئی کی ہائیکورٹ کی جانب سے یقین دلایا گیا ہے جو جو کوئی بھی مقدمے کی انداراج کے دوران قانونی چارہ جوئی کے لیے نامزد کیا گیا ہے، دعودے دار کو اسے قانونی چارہ جوئی میں شامل کرنے کا حق حاصل ہے۔
سوال:
میں ایک کمپنی کا مالک ہوں۔ میرے ایک ملازم نے عدالت میں تنخواہ نہ دیے جانے کا مقدمہ درج کروایا ہے۔ ملازم کا کہنا ہے کہ اسے گزشتہ سات ماہ کی تنخواہ نہیں دی گئی، جبکہ میں نے اسے اس کی تمام تنخواہیں ادا کی ہیں۔ اس کا میرے خلاف یہ دعویٰ جھوٹا ہے۔ تاہم میرے پاس اسے دی گئی تنخواہوں کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ میرا سوال یہ کہ میں عدالت میں کیسے ثابت کروں کہ میں نے اسے اس کی تمام تنخواہیں ادا کی ہیں۔ جو اسنے کیش میں وصول کی ہیں اور اسنے تںخواہوں کی وصولی کی کسی رسید پر دستخط نہیں کیے ہیں۔ ناہی میرے پاس کوئی تحریری ثبوت ہے۔ برائے مہربانی راہنمائی کریں۔
جواب:
متحدہ عرب امارات کا لیبر لاء آجر کو کہتا ہے کہ وہ ثابت کرے کہ اسنے اپنے ملازم تنخواہیں ادا کی ہیں۔ اس لیے، اس صورتحال میں، آپ کو عدالت سے درخواست کرنا ہوگی کہ وہ ملازم سے تنخواہوں کی وصولی کے حوالے سے قسم لے۔ اگر ملازم عدالت کے سامنے تنخواہیں نہ ملنے کی قسم اٹھاتا ہے تو عدالت ملازم کے حق میں فیصلہ دے گی۔
واضح رہے کہ یہ مضمون گلف نیوز کو اس کے صارفین کی جانب سے بھیجے گے سوال و جواب کو اردو ترجمہ ہے۔
Source: Gulf News







