ٹپس / سٹوریمتحدہ عرب امارات

GDRFA کے چیف نے دبئی ویزوں کے حوالے سے پوچھےگئے تمام سوالوں کے جواب دے دیے

یہ سوالات دبئی میڈیا آفس کی جانب سے شروع کیے گئے ایک پروگرام کے تحت عام لوگوں کی جانب سے پوچھے گئے تھے

خلیج اردو آن لائن:

جنرل ڈیریکٹوریٹ آف ریزیڈنسی اینڈ فارن افیئر کے ڈائیریکٹر کی جانب  #AskDXBOfficialکے تحت دبئی ویزوں اور دبئی کے سفر کے حوالے سے پوچھے گئے تمام سوالات کے جواب دے دیے گئے۔

دبئی میڈیا آفس کی جانب سے سے شروع کیے گئے اس پروگرام کے تحت کوئی بھی دبئی کے اعلیٰ عہدیدداروں سے دبئی ویزوں سے متعلق سوالات پوچھ سکتا ہے۔

دبئی کے ویزوں سے متعلق پوچھے سوالات اور جنرل ڈیریکٹوریٹ آف ریزیڈنسی اینڈ فارن افیئر کے چیف میجر جنرل محمد المری کی جانب سے دیے گئے جوابات درج ذیل ہیں:

سوال:

کیا دبئی کے رہائشیوں کے لیے واپسی کے اجازت نامے کی منظوری کے لیے کوئی (خاص) معیار یا اصول ہے؟

جواب:

یو اے ای کے تمام رہائشی ملک واپس آ سکتے ہیں۔ تاہم کچھ کمپنیاں ایسی ہیں جنہیں اپنے سپانسرڈ ملازمین کی طرف سے اجازت نامے کی درخواست دینا ہوگی۔ ہم کچھ ایسی ہی درخواستیں پہلے ہی منظور کر چکے ہیں۔ یہ ضروری ہے کیونکہ رہائشی یقینی ملازمت کے ساتھ لوٹتے ہیں۔

سوال:

کورونا وائرس سے پہلے جاری کیے گئے وزٹ ویزوں کا کیا بنے گا؟

جواب:

اس حوالے سے صحیح حل تلاش کرنے کے لیے GDRFA اور ٹریول ایجنسیوں کے درمیان اشتراک کی ضرورت ہے، چاہے پروازوں کے اوقات کار میں تبدیلی کرنی ہو یا مختلف سیاحتی پیکج بک کرنے ہوں۔ بہرحال، ہم پر امید ہیں کے سیاحت میں اضافہ ہوگا۔

سوال:

کیا ہم ختم ہو چکے رہائشی ویزے (جو خودبخود اس سال کے آخر تک بڑھا دیے گئے ہیں)   کے ساتھ یو اے ای سے باہر جا سکتے ہیں اور واپس آ سکتے ہیں؟

جواب:

ختم ہوچکے رہائشی ویزوں کے حامل افراد جب تک اپنے ویزے رینیو نہیں کروا لیتے انہیں ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اگر وہ ملک سے باہر جاتے ہیں اور ایکسپائر ویزے کے ساتھ واپس آتے ہیں تو انکی واپسی پر ویزوں کی تجدید نہیں کی جائے گی۔ اس لیے ملک سے باہر جانے سے پہلے ویزے کی تجدید یعنی رینیو کروا لینا بہتر ہے تاکہ آپ ملک میں واپس آ سکیں۔

سوال:

اگر خاندان کے کچھ افراد کے اجازت نامے مسترد کردیے جائیں تو ہم کیا کرسکے ہیں؟

جواب:

خاندانوں میں واپسی کے اجازت ناموں میں ماں، باپ، بچوں اور گھریلو ملازم سمیت تمام افراد شامل ہو سکتے ہیں۔ اگر ان میں سے کسی کا اجازت نامہ منظور نہیں ہوا تو پھر ان کے ڈیٹا انٹری کے وقت کسی غلطی کے سرزد ہونے کا امکان ہوسکتا ہے۔ تاہم، جب گھریلو ملازم ہم اپنے ملک سے اکیلے واپس آ رہے ہوں تو ان کے آجر کو انکے واپسی کے اجازت نامے کے لیے اپلائی کرنا ہوگا۔

سوال:

کیا رہائشی صرف ایمریٹس اور فلائی دبئی پر ہی ملک میں داخل ہو سکتے ہیں اور باہر جا سکتے ہیں؟

جواب:

دبئی ایئرپورٹس پر کام کرنے والی تمام ائرلائنز یو اے ای میں مسافروں لانے اور لیجانے کا حق رکھتی ہیں۔ اور یہ تمام ایئر لائنز پابند ہیں کے وہ اپنے مسافروں کی واپسی کے پراسیس اور انکے لیے اجازت نامہ حاصل کرنے کے پراسیس کو آسان بنائیں۔

سوال:

ہم نے دبئی کے لیے واپسی کا اجازت نامہ حاصل کر لیا ہے لیکن ہم جس ملک میں اس وقت ہیں ہم اس ملک کو سفر پابندیوں کی وجہ چھوڑ نہیں سکتے۔ اسکا کیا حل ہے؟

جواب:

جب تک یو اے ای کے لیے فضائی سفر نہیں کھل جاتا آپ کو انتظار کرنا ہوگا۔ آپ کو سفری اجازت نامہ کے لیے دوبارہ سے اپلائی کرنا ہوگا اور اسکی منظوری حاصل کرنا ہوگی۔

سوال:

مجھے اپنی بوڑھی ماں کو سپانسر کرنے کے لیے اپلائی کرنا ہے، اس کی کیا شرائط ہیں؟

جواب:

ضروری شرائط پوری ہوجانے پر ہم انکے لیے رہائشی ویزا جاری کردیں گے تاکہ وہ دبئی میں اپنےبچوں کے ساتھ رہ سکیں۔

سوال:

کیا 60 سال سے اوپر کے افراد کے لیے دبئی کا رہائشی ویزا رینیو کروانا ممکن ہے؟

جواب:

60 سال سے اوپر افراد کی رہائش کی تجدید کا انحصار انکی صحت اور جس شعبے میں وہ کام کرتے ہیں اس کی صورتحال پر ہے۔ رہائشی ویزا دینے میں عمر کوئی شرط نہیں ہے لیکن صحت ایک پہلو رہے گی۔

سوال:

ایسے افراد کے لیے آپ کی کیا نصیحت ہے جو اپنی نوکریاں کھو چکے ہیں اورسفری پابندیوں کے باعث ملک نہیں چھوڑ پائے اور ان پر جرمانے عائد ہیں؟

جواب:

دبئی GDRFA میں انسانی ہمدردی کا محکمہ ہر کیس کو فردا فردا دیکھتا ہے۔ لہذا، وہ تمام لوگ جن پر جرمانے عائد ہیں، برائے مہربانی یہ نہ سوچیں کہ آپ ملک نہیں چھوڑ سکتے۔ ہم دبئی ایئر پورٹس اور GDRFA میں ایسے ہر کیس کو نمٹائیں گے اور ایسے افراد کے سفر کو آسان بنائیں گے۔

Source: Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button