خلیج اردو آن لائن: اگر آپ متحدہ عرب امارات میں نوکری کے لیے آئے ہیں تو آپ کے لیے یو اے ای کے لیبر سے متعلق قوانین جاننے از حد ضروری ہیں۔ تاکہ انجانے میں کسی قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں آپ ملازمت کی پابندی سے بچ سکیں۔
درج ذیل مضمون میں برابشین یعنی نوکری ملنے کے بعد آزمائشی تقرر کے دوران نوکری چھوڑ دینے پر ملازمت کی پابندی عائد ہوتی ہے یا نہیں سے متعلق بات کی گئی ہے۔
نجی خبررساں ادارے دی نیشنل کو اس کے قاری کی جانب سے سوال پوچھا گیا تھا کہ وہ وہ ایک مکینکل انجینئر ہے اور گزشتہ چھ سال سے یو اے ای میں مقیم ہے۔ ان نوں وہ ایک کمپنی سے ساتھ پرابیشن پر کام کر رہا ہے۔ اس کا لیبر کنٹریکٹ محدود نہیں ہے۔ لیکن وہ پرابیشن کا دورانیہ مکمل ہونے کے سے پہلے ہی نوکری چھوڑ کر دوسری نوکری جوائن کرنا چاہتا ہے۔ قاری جاننا چاہتا ہے کہ پرابیشن مکمل ہونے سے پہلے نوکری چھوڑنے پر کیا اسے ملازمت پر پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟
جواب:
خبررساں ادارے کی جانب سے قاری کے سوال جواب دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ملازم کے مفاد کے لیے 2015 کے فرمان 766 کے جاری کیے جانے بعد 2016 میں ملازمت پر پابندی کے قوانین تبدیل ہو گئے ہیں۔
جس میں کہا گیا ہے کہ لامحدود معاہدوں پر کام کرنے والے ملازمین پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔
تاہم کچھ شرائط پوری کرنا لازم ہوگا، جو کہ درج ذیل ہیں:
1۔ اگر ملازم 6 ماہ کی مدت کے لیے کام کرچکا ہے تو آجر کے اور ملازم کی باہمی رضامندی سے نوکری چھوڑی جا سکتی ہے۔ تاہم اعلی تعلیم یافتہ یا تصدیق شدہ ہائی سکول سرٹیفکیٹ کے حامل افراد کو اس شرط سے استشنا حاصل ہے۔
2۔ اس فرد کا ویزا مہارت کی کیٹگری نمبر 1، 2، یا 3 کے اندر آتا ہو۔
3۔ تعلیم اور مہارت سے قطع نظر، ملازم 6 مہینوں کے لیے ملازمت کر چکا ہو۔ بہرحال، ہر صورتحال میں نوکری چھوڑنے سے پہلے 30 دن کا نوٹس دیا گیا ہو اور پورا کیا گیا ہو۔ اور لیبر کنٹریکٹ پر نوٹس کومختلف دورانیہ ہونے کی صورت میں اس پر عمل کرنا ہوگا۔
سوال پوچھنے والا چونکہ مکینکل انجینئر ہے، لہذا وہ 30 دن کا نوٹس دے کر نوکری چھوڑ سکتا ہے اوراس پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔
Source: The National







