خلیج اردو آن لائن:
لالکھوں سیاحوں کے پسندیدہ ملک متحدہ عرب امارات کے احمد السمیتی اور عبداللہ ال عبیدی نامی دو اماراتی ان سیاحوں کو متحدہ عرب امارات کے ایک دوسرے اور حقیقی رخ سے متعارف کروانا چاہتے ہیں۔
یہ دونوں اماراتی نوجوان سیاحوں کو اپنے گھروں میں مدعو کرتے ہیں اور انہیں حقیقی اماراتی تجربے سے لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
انکا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں اونچی، دلکش اور پر شکوہ عمارتوں اور پالازوں کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔ اسی لیے وہ سیاحوں کو مشہور مقامات سے دور لیجاتے ہیں اور انہیں یو اے ای کی اصل اوار حقیقی روایات سے متعارف کرواتے ہیں۔
وہ سیاحوں کو عربوں کی حقیقی میزبانی سے متعارف کروانے کے لیے انہیں اپنی مجلسوں میں مدعو کرتے ہیں۔ جہاں سیاح سیکھتے ہیں کہ مقامی طریقے سے کافی کیسے کپ میں ڈالتے ہیں اور عربی اسکارف کیسے باندھتے ہیں اور عربی کھانے کیسے کھائے جاتے ہیں۔
احمد السمیتی اور عبداللہ ال عبیدی نے سیاحوں کو اپنے گھر میں مدعو کرنے سلسلہ اس وقت شروع کیا جب انہیں پتہ چلا کہ متحدہ عرب امارات میں بہت کم اماراتی ایسے ہیں جو سیاحوں کے لیے گائیڈ کی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس چیز کو دیکھتے ہوئے انہیں لگا کہ اس طرح سے یو اے ای کی اصل ثقافت، روایات اور تاریخ سے سیاح لا علم رہیں گے۔ اس لیے انہوں نے سیاحوں کو مدعو کرنا شروع کیا اور وہ سیاحوں ہیرٹیج گاؤں میں بھی لے کر جاتے ہیں تاکہ سیاح دیکھ سکیں کہ اماراتی دیہاتوں میں کیسے رہتے تھے۔
وہ سیاحوں بتاتے ہیں کہ یو اے ای اصل ورثہ کیا ہے اور یو اے ای نے کیسے ترقی کی۔
انہوں ایک پمفلٹ بھی تشکیل دیا ہے جس کا نام ہے مائی گائیڈ۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ یو اے ای کے اصل ورثہ کو دیکھنے کے لیے سیاحوں کو کن جگہوں پر جانا چاہیے۔
احمد السمیتی اور عبداللہ ال عبیدی کا کہنا ہے انکا یہ کام محض سیاحوں کی سروس نہیں ہے بلکہ "ہمارا قومی فریضہ ہے”۔
Source: Khaleej Times







