
خلیج اردو
دبئی: معروف امریکی مصنفہ اور "سیکس اینڈ دی سٹی” کی خالق کینڈیس بشنیل نے دبئی میں ہونے والے وی کنونشن کے دوران خواتین کی خود مختاری، رشتوں اور زندگی کے مختلف مراحل میں تبدیلی کے موضوع پر کھل کر گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ "میں مسٹر بگ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تھی — میں خود مسٹر بگ بننا چاہتی تھی۔”
دو دہائیاں گزر جانے کے باوجود، بشنیل کا پیغام آج بھی ویسا ہی طاقتور ہے: خواتین کو اپنی زندگی کا کنٹرول خود سنبھالنا چاہیے۔ دبئی میں خواتین کے رولز، محبت اور خودمختاری پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ محبت کسی بھی شہر یا ملک میں آسان نہیں۔ مگر اگر یہاں کی خواتین لیمبورگینی چلا رہی ہیں اور منولوس پہن رہی ہیں، تو وہ بہت اچھا کر رہی ہیں — مجھے شاید یہاں آ کر رہنا پڑے گا!”
دبئی کے بارے میں اپنے تاثر کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "یہ شہر حیرت انگیز ہے۔ یہاں کی توانائی متاثر کن ہے۔ میں نے بہت سی ذہین، متحرک اور بااعتماد خواتین سے ملاقات کی ہے۔ مجھے یہاں دوبارہ آنا ہوگا۔”
بشنیل نے خواتین کے لیے کامیابی کے تصور پر بات کرتے ہوئے کہا، "میرے نزدیک زندگی ’سب کچھ حاصل کرنے‘ کے بارے میں نہیں، بلکہ ’ایک اہم چیز‘ کے بارے میں ہے۔ اگر وہ چیز آپ کا خاندان ہے، تو بہت اچھا۔ اگر وہ آپ کا کیریئر ہے، تو بھی شاندار۔ اصل بات یہ ہے کہ آپ اپنی ترجیح خود طے کریں۔”
محبت اور رشتوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے مسٹر بگ کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "لوگ آج بھی مجھ سے اپنے مسٹر بگ کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ مگر میں نے خود جانا کہ میں مسٹر بگ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی — بلکہ خود مسٹر بگ بننا چاہتی ہوں۔ میرا مشورہ یہی ہے کہ اگر آپ کسی مسٹر بگ کے دیوانے ہیں، تو خود اپنی زندگی کے مسٹر بگ بن جائیں۔”
انہوں نے کہا کہ سسٹرہوڈ — یعنی خواتین کے باہمی تعلق اور حمایت — کی اہمیت ناقابلِ تردید ہے۔ "نیویارک کی طرح دبئی میں بھی دوستیاں خاندان کی طرح ہوتی ہیں۔ سیکس اینڈ دی سٹی دراصل خواتین کی باہمی سپورٹ کی کہانی تھی۔”
بشنیل نے نئے آغاز اور زندگی میں تبدیلی کے فلسفے پر زور دیتے ہوئے کہا، "زندگی مرحلوں میں گزرتی ہے۔ خواتین کسی بھی عمر میں خود کو نئے سرے سے تشکیل دے سکتی ہیں۔ پچاس کے بعد بھی زندگی کے نئے مواقع جنم لیتے ہیں — بس آپ کو انہیں قبول کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔”
کیرکٹر کیری بریڈشا پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "سارہ جیسیکا پارکر نے کیری کو حقیقی زندگی بخشی۔ اس نے کردار کو اتنی ذہانت اور گرمی سے ادا کیا کہ وہ آج بھی دنیا بھر میں خواتین کے لیے ایک علامت بن چکا ہے۔”
‘






