سٹوریکالم

بھارت میں گوگل ہوگا ، ایپل و ایمازون ہو گا اور سوشل میڈیا ایکسپرٹ ہم سے زیادہ ہو سکتے ہیں لیکن

خلیج اردو
تحریر: طاہر شاہ
گزشتہ بارہ سالوں سے سوشل میڈیا تجزیہ و تحقیق میرا شوق رہا ہے۔ پاکستان بھارت مابین سوشل میڈیا پر کئی جنگیں میں نے دیکھی ہیں ۔ کچھ اندونی جنگوں سے بھی واقف ہوں ۔ لیکن یہ تجزیہ تھوڑا مختلف ہے۔ کہانی شروع ہوتی ہے میم وار سے جہاں پاکستان اپنا ثانی نہیں رکھتا ۔ اس دوران تین اہم پلیٹ فارم ایکس(ٹویٹر)، فیس بک اور انسٹاگرام رہے۔ اس کے بعد ٹک ٹاک اور ریڈ اٹ پر ویڈیوز کا تبادلہ دیکھا گیا۔

خود ساختہ پہلگام سانحہ کے بعد پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکی ملی تو بدلے میں پاکستانی عوام نے انسٹاگرام سے میم وار کا آغاز کیا۔ ابھی یہ جنگ ہم جیت ہی رہے تھے کہ بھارت نے اپنے دفاعی بجٹ کو برقرار رکھنے کے لئے سچ مچ کا حملہ کر دیا ۔ اب یہ بروقت درست خبروں اور ذمہ دارانہ سوشل میڈیا رپورٹس کا وقت تھا اسی دوران ایک اہم اور بروقت اقدام حکومت کی جانب سے کیا گیا جب خبروں کا تیز ترین پلیٹ فارم ایکس(ٹویٹر) کھول دیا گیا۔ بہت سی خبریں چلتی رہیں بھارت اس وقت تک بازی لئے جا رہا تھا جب اچانک ایک رافیل کے گرنے کی خبر پاکستان کی طرف سے انٹرنیشنل میڈیا تک پہنچ گئی۔ یہی وہ وقت تھا جب مختلف انٹرنیشنل سوشل اکاؤنٹس جن میں چین اور ترکی کے علاؤہ دیگر کئی ممالک شامل ہیں نے پاکستان کے اکاؤنٹس کو ملین میں شئیرنگ دی ۔ اور بوکھلاہٹ میں اگلے 24 گھنٹوں میں بھارت کے ایک اہم ٹی وی چینل نے دعویٰ کر دیا کہ بھارت کی طرف سے امریکہ کو ثالثی کی سفارش کی گئی جس کی ویڈیو بعد میں ڈیلٹ کرا دی گئی۔ یہی موقع تھا جب اصل جنگ دوبارہ سوشل میڈیا کی طرف پلٹی اور پاکستان کی طرف سے سچ اور میمز ملا کر اتنی ویڈیوز تصاویر بھیجی گئیں کہ الجزیرہ ٹی وی نے یہ دعویٰ کر دیا کہ ایک خاتون پائلٹ بھی پاکستان میں گرفتار ہو چکی ہے ۔ سچ اور میمز کی ملاوٹ کی وجہ یہ تھی کہ میم واریئرز اور درست رپورٹنگ ، دونوں کا دشمن ایک ہی تھا ۔ پھر بھارت جس کی آبادی چین سے بڑھ چکی ہے اس وقت مقابلہ نہ کر سکا جب چین کی عوام رافیل کے جے 10 کی کامیابی پوری دنیا میں ایک نئے باب کے طور پر دیکھ رہی تھی اور اس کا مسلسل پرچار کر رہی تھی ۔ اس دوران جب یہ جنگ جاری تھی دفاعی تجزیہ نگاروں میں بھی جنگ چھڑ گئی۔

دفاعی تجزیہ نگار کون لوگ ہیں اس پر پھر کبھی بحث ہو گی لیکن اتنا سمجھ لیں کہ جنگی سامان بنانے اور بیچنے والے ہی سب سے بڑے دفاعی تجزیہ نگار ہوتے ہیں۔ بھارت نے اپنے دفاعی تجزیہ نگار امریکہ اور اسرائیل کے غرور کو خاک میں ملا دیا ۔ اس دوران واحد ملک جس نے چین کے جے 10 طیارے فیلڈ میں استعمال کرکے دکھائے اور ان کے دو دن میں شئیرز تیس فیصد بڑھ گئے۔ یہ اکنامکس اور اسلحہ کی جنگ بھی پھر کبھی سہی واپس آتے ہیں سوشل میڈیا وار کی طرف۔

اس دوران رافیل کی خبروں کو لے کر بھارت سینا اور عوام دونوں تذبذب کا شکار رہے اور پاکستان پر دوبارہ ڈرون حملے شروع کر دیئے ۔ اب کی بار نا طرف سوشل میڈیا بلکہ فیلڈ میں گھروں سے رات کے تین بجے لوگ باہر نکلے اور بھارتی پروپیگنڈا ایک دفعہ پھر ناکام ہو گیا۔ اس ناکامی میں ایک بہت اہم کردار بھارتی الکٹرانک میڈیا کا ہے جس نے بلا تحقیق لمبی لمبی چھوڑ کر اپنا اور اپنی قوم کا مورال خاک میں ملا دیا۔ پھر ایک وقت تھا جب بھارتی عوام پاکستانی ریڈ اٹ سوشل ایپ پر آکر پوچھ رہی تھی کہ سچ بتا دو کیا واقعی ہماری کوئی پائلٹ گرفتار ہوئی ہے ۔ ہمارا میڈیا تو پاکستان فتح کر چکا ہے۔

بھارتی سوشل میڈیا تجزیہ نگار یہ کہہ رہیں ہیں کہ اس بار امریکہ اور چین دونوں نے پاکستان کا ساتھ دیا ہے کیونکہ دونوں اپنا دفاعی سامان پیچنا چاہتے ہیں اور اب امریکہ نے بھارت کو بے عزت کیا ہے کہ بولا بھی تھا میرے ایف سیریز فیفتھ جنریشن کے جہاز خرید لو پھر حملہ کرنا۔

قصہ مختصر یہ کہ بھارت میں گوگل ہوگا ، ایپل و ایمازون ہو گا اور سوشل میڈیا ایکسپرٹ ہم سے زیادہ ہو سکتے ہیں لیکن اکثر فجر سے پہلے ہی سو جاتے ہیں۔ اور مومن آغاز ہی فجر سے کرتا ہے ۔ پاکستان ذندہ باد ۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button