متحدہ عرب امارات

**ارب پتی سے عدالتوں تک: این ایم سی کے بانی بی آر شیٹی کے عروج و زوال کی داستان*

*
**خلیج اردو**

دبئی: کئی دہائیوں تک باواگتھُو رگھورام شیٹی (بی آر شیٹی) متحدہ عرب امارات کی کاروباری دنیا کا ایک نمایاں نام رہے — کامیابی، محنت اور موقع کی علامت۔ مگر اس ہفتے ان کی کہانی نے ایک نیا موڑ لے لیا۔

دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر (DIFC) کورٹ نے این ایم سی ہیلتھ کے بھارتی نژاد بانی بی آر شیٹی کو ایک بھارتی بینک کو 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ رقم ان ذاتی ضمانتوں سے متعلق ہے جو ان کی کمپنیوں کے کاروباری قرضوں کے دوران دی گئی تھیں۔

یہ فیصلہ ایک طویل اور پیچیدہ قانونی سفر کا تازہ باب ہے — جو کبھی متحدہ عرب امارات کی سب سے متاثر کن کاروباری کہانی سمجھا جاتا تھا اور بعد ازاں ایک بڑے کارپوریٹ اسکینڈل میں تبدیل ہو گیا۔

**ابتدا — صرف 7 درہم سے ہیلتھ کیئر ایمپائر تک (1970 تا 2000)**
بی آر شیٹی 1973 میں صرف 7 درہم کے ساتھ ابوظہبی پہنچے۔ بھارت کے اڈوپی سے تعلق رکھنے والے ایک تربیت یافتہ فارماسسٹ ہونے کے ناطے انہوں نے نجی شعبے میں صحت کی سہولیات کی کمی کو موقع میں بدلا۔

1975 میں انہوں نے "نیو میڈیکل سینٹر (NMC)” کے نام سے ایک چھوٹی کلینک قائم کی، جو وقت کے ساتھ بڑھ کر متحدہ عرب امارات کے سب سے بڑے اسپتال نیٹ ورکس میں شامل ہو گئی۔ بعد ازاں انہوں نے نیوفارما کے ذریعے دواسازی، یو اے ای ایکسچینج کے ذریعے ترسیلاتِ زر، اور فینابلر و ٹریولیکس کے ذریعے غیر ملکی کرنسی اور سفر کی خدمات کے شعبوں میں قدم رکھا۔

2000 کی دہائی کے آغاز تک، ان کی کمپنیاں ہر گھر کا نام بن چکی تھیں۔ این ایم سی اسپتالوں کا سب سے معروف نیٹ ورک بن گیا، جبکہ یو اے ای ایکسچینج ترسیلات کے مترادف سمجھا جانے لگا۔

**2012 — لندن اسٹاک ایکسچینج میں داخلہ**
2012 میں این ایم سی ہیلتھ لندن اسٹاک ایکسچینج میں لسٹ ہونے والی پہلی یو اے ای بیسڈ ہیلتھ کیئر کمپنی بنی، جس کی ابتدائی مالیت ایک ارب ڈالر سے زائد تھی۔

اپنے عروج پر کمپنی کی مجموعی مالیت 10 ارب ڈالر سے بڑھ گئی، اور بی آر شیٹی خطے کے کامیاب ترین کاروباری شخصیات میں شمار کیے جانے لگے۔ انہیں بھارت اور ابوظہبی چیمبر آف کامرس سمیت کئی اداروں نے ان کی کاروباری و سماجی خدمات پر ایوارڈز سے نوازا۔

**2019 — زوال کی شروعات**
دسمبر 2019 میں امریکی مالیاتی تحقیقی ادارے "مَڈی واٹرز ریسرچ” نے ایک رپورٹ میں الزام لگایا کہ این ایم سی نے اپنے کیش بیلنسز کو بڑھا چڑھا کر اور قرضوں کو کم ظاہر کیا ہے۔

اس رپورٹ کے بعد کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں شدید گراوٹ آئی، اربوں ڈالرز کا نقصان ہوا، اور سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ ریگولیٹری ادارے بھی تحقیقات میں شامل ہو گئے۔

یہ وہ لمحہ تھا جب بی آر شیٹی کی دہائیوں پر محیط کامیابی کی کہانی بحران کے بھنور میں داخل ہو گئی — ایک ایسی کہانی جو اب عدالتوں، قرضوں اور مالیاتی تنازعات کے گرد گھوم رہی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button