
خلیج اردو
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کے سپریم کورٹ کی جانب مارچ کے اعلان کے بعد پیر کو 6 میٹرو اسٹیشن بند کردیے گئے، جبکہ شہر کے 20 سے زائد مقامات پر ٹریفک کی پابندیاں اور متبادل راستوں کا انتظام کیا گیا۔ حکام نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر یہ اقدامات کیے، جبکہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کے احتجاج میں مزید شدت آگئی ہے۔
اپوزیشن جماعتوں اور کاکروچ جنتا پارٹی کے حامی رواں ماہ تقریباً روزانہ سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اپنے عہدے سے مستعفی ہوں۔ ناقدین کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں سے وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچ رہا ہے، تاہم الیکشن کمیشن نے کسی سیاسی جماعت کی حمایت کے الزام کو مسترد کردیا ہے۔
بھارت میں ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کا عمل گزشتہ سال شروع ہوا تھا، جس کے دوران انتخابی فہرستوں سے تقریباً 13 کروڑ نام حذف کیے جانے کا انکشاف ہوا۔ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق حذف کیے گئے ناموں میں تقریباً 2 کروڑ 80 لاکھ ایسے افراد شامل تھے جو وفات پاچکے تھے، 6 کروڑ 30 لاکھ افراد دوسری جگہ منتقل ہوچکے تھے، جبکہ 3 کروڑ افراد کا سراغ نہیں مل سکا تھا۔
اپوزیشن جماعتوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اس عمل سے اقلیتی برادریوں کے افراد غیر متناسب طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ الیکشن کمیشن اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹر فہرستوں سے غلط طور پر خارج کیے گئے افراد دوبارہ اندراج کراسکتے ہیں۔ بی جے پی نے اپوزیشن پر انتخابی عمل پر بلاجواز سوالات اٹھا کر جمہوری نظام کو کمزور کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔
پیر کو کانگریس پارٹی نے سپریم کورٹ کی جانب مارچ کا اعلان کیا، جس کا مقصد چیف جسٹس کے نام یادداشت پیش کرنا اور مبینہ ووٹ چوری کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرنا ہے۔ کانگریس رہنما راہول گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ نوجوان، اپوزیشن جماعتیں، سول سوسائٹی اور جمہوریت اور بھارتی آئین پر یقین رکھنے والے افراد اس مارچ میں شریک ہوں گے۔
تاہم چیف جسٹس سوریا کانت نے راہول گاندھی اور کانگریس کے وفد سے ملاقات کی درخواست قبول نہیں کی۔ کانگریس کے ایک ذریعے کے مطابق چیف جسٹس نے ای میل میں کہا کہ چونکہ ووٹر فہرستوں کا معاملہ پہلے ہی عدالت میں زیر سماعت ہے، اس لیے کانگریس رہنماؤں کو ملاقات کے بجائے قانونی طریقہ کار اختیار کرنا چاہیے اور معاملہ عدالتی کارروائی کے ذریعے اٹھانا چاہیے۔
دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ اس کے رہنما دہلی پولیس سے ملاقات کرکے پُرامن احتجاج کے لیے تاریخ مقرر کرنے کا مطالبہ کریں گے۔ پارٹی نے خبردار کیا ہے کہ اگر 24 گھنٹوں کے اندر احتجاج کی تاریخ نہیں دی گئی تو وہ نئے احتجاج کی کال دے سکتی ہے۔
حالیہ مہینوں میں سرکاری سکولوں کے بنیادی ڈھانچے اور روزگار سمیت مختلف مسائل پر احتجاج کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی کو مودی حکومت کے لیے ایک اہم سیاسی چیلنج قرار دیا جارہا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر دہلی پولیس نے احتجاج کے دوران ہزاروں مظاہرین کو حراست میں لیا، جن میں پارٹی رہنما بھی شامل تھے۔ سکیورٹی اہلکاروں نے وسطی دہلی میں بڑے پیمانے پر تعیناتی کرکے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روک دیا تھا۔
احتجاج میں شدت گزشتہ ماہ اخبار انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے بعد آئی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کے دو نائبین نے ووٹر فہرستوں پر نظرثانی، رجسٹریشن کے طریقہ کار اور ڈیجیٹل نظام سے متعلق اندرونی سطح پر کئی خدشات اٹھائے تھے۔ ان الزامات اور ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں نے بھارت میں انتخابی شفافیت اور ووٹروں کے اندراج سے متعلق بحث کو مزید تیز کردیا ہے۔






