
خلیج اردو
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہفتے اور اتوار کو ہونے والے حملوں میں مجموعی طور پر 14 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ نے دونوں روز حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ہفتے کے حملے میں 13 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ اتوار کو ہونے والے حملے میں ایک شخص جان سے گیا۔ اتوار کے حملے میں زخمی ہونے والوں کی تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئیں۔
حملوں میں سعودی عرب، بنگلہ دیش، مصر، بھارت، اردن، پاکستان اور فلسطین کے شہری متاثر ہوئے ہیں، جبکہ فلپائن کے دو شہری انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیر علاج ہیں۔ مختلف ممالک نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
سعودی عرب میں ہفتے کے حملے میں جاں بحق ہونے والی مریم الابراہیم العبدالرحمان النملہ کی شناخت ان کے خاندان نے سوشل میڈیا پر کی۔ اطلاعات کے مطابق وہ مقدس شہر مدینہ منورہ جا رہی تھیں۔ ان کے اہل خانہ کے مطابق نماز جنازہ منگل کو ریاض کی الراجحی مسجد میں نماز عصر کے بعد ادا کی جائے گی۔
بنگلہ دیش نے حملے میں اپنے دو شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ریاض میں بنگلہ دیشی مشن سعودی حکام سے رابطے میں ہے تاکہ جاں بحق اور زخمی شہریوں کی تفصیلات حاصل کرنے کے ساتھ متاثرہ خاندانوں کی مدد کا انتظام کیا جاسکے۔ بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔
مصر کی 28 سالہ فضائی میزبان عزا رمزی محمد حسن ہفتے کے حملے میں زخمی ہونے کے بعد دم توڑ گئیں۔ مصری میڈیا کے مطابق ان کا تعلق صوبہ بحیرہ سے تھا۔ مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے صدر عبدالفتاح السیسی کی ہدایات پر ریاض میں مصری سفارت خانے اور قونصل خانے کو ہدایت دی کہ متاثرہ خاندان سے رابطہ کرکے میت کی وطن واپسی کے انتظامات تیز کیے جائیں۔ مصری سفارتی حکام نے اسپتال میں زیر علاج پانچ زخمی مصری شہریوں کی عیادت بھی کی۔
بھارتی سفارت خانے نے اتوار کو تصدیق کی کہ ہفتے کے حملے میں زخمی ہونے والا ایک بھارتی شہری دوران علاج دم توڑ گیا۔ اس سے قبل سفارت خانے نے 11 بھارتی شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاع دی تھی۔ بھارتی حکام سعودی حکام اور متعلقہ اسپتالوں کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ متاثرہ شہریوں کو ضروری معاونت فراہم کی جاسکے۔
اردن کی خبر رساں ایجنسی پترا کے مطابق حملے میں ایک اردنی شہری بھی ہلاک ہوا، جبکہ چار اردنی شہری زخمی ہوئے۔ اردن کی وزارت خارجہ کے ترجمان فواد المجالی نے بتایا کہ زخمیوں میں سے دو مردوں کو اسپتال سے فارغ کردیا گیا ہے، جبکہ دو خواتین زیر علاج ہیں۔ حکام جاں بحق شہری کی میت اردن منتقل کرنے کے انتظامات کر رہے ہیں۔
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے ریاض میں حملے کے دوران پاکستانی شہری کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق اتوار کے حملے میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق ہوا، جبکہ ہفتے کے حملے میں چھ پاکستانی زخمی ہوئے تھے۔ وزیر اعظم نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اور کہا کہ ریاض میں پاکستانی سفارت خانہ سعودی حکام سے مسلسل رابطے میں ہے اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کر رہا ہے۔
فلسطینی شہری طلال الدانی بھی ہفتے کے حملے میں جان سے گئے۔ فلسطینی وزارت خارجہ کے مطابق سعودی عرب میں فلسطینی سفارت خانے نے میت سے متعلق ضروری کارروائیوں کے ساتھ مرحوم کے خاندان کو مطلوبہ معاونت فراہم کی۔
فلپائن کے محکمہ برائے تارکین وطن کے سیکریٹری ہانس لیو کڈسک نے بتایا کہ حملے کے بعد ریاض کے ایک اسپتال میں فلپائن کے دو شہری انتہائی نگہداشت میں زیر علاج ہیں۔ فلپائنی حکام کے مطابق متاثرہ شہریوں کی حالت پر نظر رکھی جا رہی ہے اور ان کے لیے ضروری مدد فراہم کی جارہی ہے، تاہم کسی فلپائنی شہری کی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔
حوثی گروپ اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی یمن کی جنگ سے جڑی ہوئی ہے۔ حوثی یمن کی حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں، جسے سعودی قیادت میں قائم اتحاد کی حمایت حاصل ہے۔ حوثیوں کے بحیرہ احمر کے ساحل پر اہم علاقوں پر قبضے کے بعد یمنی حکومت اور اتحادی فورسز نے ان علاقوں کو واپس لینے کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی۔ سعودی قیادت میں اتحاد نے ہفتے کو حوثیوں کے 100 سے زائد اہداف تباہ کرنے کا دعویٰ کیا، جبکہ حوثیوں کے مطابق سعودی عرب نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یمن میں 124 فضائی حملے کیے۔ حوثی گروپ نے سعودی حملے بند نہ ہونے کی صورت میں مزید شدید کارروائیوں کی دھمکی بھی دی ہے۔
حملوں کے بعد کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازوں کی آمد و رفت عارضی طور پر متاثر ہوئی اور متعدد بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے ریاض کے لیے پروازیں منسوخ کردیں۔ فلائٹ شیڈول کے اعداد و شمار کے مطابق متحدہ عرب امارات کے وقت کے مطابق صبح ساڑھے پانچ بجے تک ریاض سے روانہ ہونے والی ایک تہائی سے زیادہ پروازیں منسوخ یا غیر فعال قرار دی جاچکی تھیں۔
دبئی کی فضائی کمپنی فلائی دبئی نے ریاض کے لیے پروازیں 14 اکتوبر تک معطل کردی ہیں، جبکہ اتحاد ایئرویز نے 12 اکتوبر تک پروازیں منسوخ کی ہیں۔ کویت کی جزیرہ ایئرویز نے بھی ایئرپورٹ آپریشنز کی عارضی معطلی کے باعث پروازیں متاثر ہونے کا اعلان کیا، جبکہ کویت ایئرویز نے کویت سے ریاض جانے والی پرواز کے یو 775 اور ریاض سے کویت آنے والی پرواز کے یو 776 منسوخ کردیں۔ ایئر فرانس سمیت دیگر بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے بھی ریاض کے لیے پروازیں منسوخ کی ہیں۔







