
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے متعدد سکولوں میں اکتوبر کی وسط مدتی تعطیلات کے موقع پر خاندانوں نے بچوں کے ساتھ وقت گزارنے، بیرون ملک سفر اور ملک کے اندر تفریحی مقامات پر جانے کے منصوبے بنا لیے ہیں۔ کچھ والدین اپنے بچوں کو آبائی ملک لے جا رہے ہیں تاکہ وہ رشتہ داروں کے ساتھ وقت گزار سکیں، جبکہ دیگر خاندان متحدہ عرب امارات میں مختصر تعطیلات اور تفریحی سرگرمیوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے یکساں تعلیمی کیلنڈر پر عمل کرنے والے سکولوں میں تعطیلات 12 اکتوبر پیر سے 16 اکتوبر جمعہ تک ہوں گی، جبکہ تدریسی سرگرمیاں 19 اکتوبر پیر کو دوبارہ شروع ہوں گی۔ ہفتہ وار تعطیلات کو شامل کیا جائے تو طلبہ 10 اکتوبر ہفتہ سے 18 اکتوبر اتوار تک مسلسل 9 روز چھٹیوں سے لطف اندوز ہوسکیں گے۔
دبئی میں مقیم دینا حکیم نے بتایا کہ ان کا خاندان تعطیلات کے ابتدائی دن نسبتاً پرسکون انداز میں گزارے گا، جبکہ ہفتے کے اختتام پر راس الخیمہ میں مختصر قیام کا منصوبہ ہے۔ ان کے مطابق والدین کو ہفتے کے بیشتر دن کام کرنا ہوتا ہے، اس لیے چند روز کے لیے بچوں کو تعطیلاتی کیمپ میں داخل کرانا زیادہ مناسب نہیں۔ بچے گھر پر رہ کر سکول کا کام مکمل کرنے اور معمولات سے کچھ آرام حاصل کرنے کا موقع پائیں گے۔
دینا حکیم کے مطابق وہ بچوں کے لیے کام کے دوران مصروفیات اور تفریح کے درمیان توازن قائم رکھنا چاہتی ہیں تاکہ تعطیلات ان کے لیے ایک اور مصروف شیڈول نہ بن جائیں۔ وہ بچوں کو خوش کرنے کے لیے دوران ہفتہ کام سے ایک دن کی چھٹی لینے پر بھی غور کر رہی ہیں۔
دوسری جانب انجانا سین گپتا اپنی بیٹی کے ساتھ بھارت جانے کی تیاری کر رہی ہیں، جہاں درگا پوجا کے تہوار میں شرکت کی جائے گی۔ ان کے مطابق یہ سفر صرف تعطیلات گزارنے کا ذریعہ نہیں بلکہ بیرون ملک مقیم خاندانوں کے بچوں کو اپنے رشتہ داروں، ثقافت اور روایات سے جوڑے رکھنے کا اہم موقع بھی ہے۔
انجانا سین گپتا نے کہا کہ درگا پوجا بنگالی خاندانوں کے لیے خصوصی اہمیت رکھتی ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ ان کے بچے اس تہوار میں خود شرکت کریں، نہ کہ صرف اس کے بارے میں سنیں۔ ان کے مطابق آبائی ملک کے دورے بچوں کو اپنے کزنز کے ساتھ وقت گزارنے اور خاندانی تعلقات مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
دبئی میں تعلقات عامہ کے شعبے سے وابستہ مریم حداد نے بتایا کہ وہ اپنے دو بیٹوں کی تعطیلات کو کم خرچ اور منظم رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے چھوٹے بیٹے کے لیے دوستوں کے ساتھ کھیلنے کے پروگرام ترتیب دیے ہیں، جبکہ بڑے بیٹے کو مطالعے اور تحریری کام پر توجہ دینے کے لیے وقت دیا جائے گا۔ ان کے مطابق تعطیلاتی کیمپ مہنگے ہونے کے باعث انہوں نے بچوں کو ان میں داخل کرانے کا فیصلہ نہیں کیا۔
مریم حداد کے مطابق قریبی پارکوں میں کھیلنے، سائیکل چلانے اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے سے بچے تعطیلات سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ چونکہ متعدد سکولوں میں ایک ہی وقت میں چھٹیاں ہیں، اس لیے دوسرے خاندانوں کے ساتھ بچوں کی مشترکہ سرگرمیوں کا انتظام کرنا بھی نسبتاً آسان ہوگیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کا بڑا بیٹا زین دسویں جماعت میں انٹرنیشنل بکلوریٹ نصاب کے تحت تعلیم حاصل کر رہا ہے، اس لیے تعطیلات کے دوران بھی اس کے سکول کے کام کے لیے وقت مختص کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق وہ دفتر جانے سے پہلے دونوں بچوں کا روزانہ کا شیڈول ترتیب دیتی ہیں تاکہ وہ تعلیمی ذمہ داریاں پوری کرنے کے ساتھ تفریح کے لیے بھی وقت نکال سکیں۔







