
خلیج اردو
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 10 اکتوبر کو ہونے والے حملے میں زخمی سعودی تائیکوانڈو کھلاڑی صباح العسیری نے صحت یاب ہوکر دوبارہ کھیل کے میدان میں واپسی کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ صباح العسیری قومی اور خلیجی سطح پر متعدد اعزازات حاصل کرچکی ہیں اور چیمپئن شپ میں شرکت کے بعد وطن واپس پہنچ رہی تھیں، جب وہ ایئرپورٹ پر حملے کی زد میں آگئیں۔
سعودی وزارت صحت سے گفتگو کرتے ہوئے صباح العسیری نے بتایا کہ دھماکے کے وقت وہ اپنے والد کے ساتھ ایئرپورٹ پر بیٹھی تھیں۔ انہوں نے والد سے چہل قدمی کے لیے جانے کے بارے میں پوچھا، تاہم والد نے کہا کہ ان کی پرواز جلد روانہ ہونے والی ہے۔ اسی دوران وہ اپنا فون دیکھ رہی تھیں کہ اچانک دھماکا ہوا اور ان کے ہاتھ سے فون اچھل کر دور جاگرا۔ صباح کے مطابق انہیں اس وقت صرف اپنی جان بچانے کی فکر تھی۔
انہوں نے بتایا کہ دھماکے سے بچنے کے لیے جب انہوں نے اپنا بازو آگے کیا تو کوئی چیز ان کے بازو میں پیوست ہوگئی۔ آنکھیں کھولنے پر انہوں نے دیکھا کہ ان کا بازو بری طرح زخمی ہوچکا تھا۔ وہ فوری طور پر وہاں سے نکلیں اور محفوظ مقام تک پہنچنے والے ابتدائی افراد میں شامل تھیں۔ ڈاکٹروں نے پہلے آپریشن میں ان کی ہڈیوں کو دوبارہ جوڑ دیا ہے، جبکہ مزید دو آپریشن کیے جانے ہیں۔ صباح العسیری نے عزم ظاہر کیا کہ ان شاء اللہ وہ صحت یاب ہوکر پہلے سے زیادہ مضبوط ہوکر واپس آئیں گی اور کوئی چیز انہیں آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔
صباح کے والد نے بھی واقعے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو ہوگیا، وہ ہوگیا، تاہم انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ ان کی بیٹی حملے سے قبل چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل جیت کر وطن واپس آرہی تھیں۔ صباح ان 309 افراد میں شامل ہیں جو کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں زخمی ہوئے۔ حملے کے بعد ایئرپورٹ پر پروازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی اور آپریشنز معطل ہونے سے سفری نظام میں بڑے پیمانے پر خلل پڑا۔
رپورٹ کے مطابق یمن کے ایران نواز حوثی گروپ نے 10 اکتوبر کے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ سعودی عرب پر حملوں میں شدت ایسے وقت میں آئی جب حوثی گروپ نے پڑوسی ملک یمن میں حالیہ علاقائی پیش رفت کے دوران اپنی پوزیشن مضبوط کی۔ سعودی عرب نے حملوں کا فیصلہ کن جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔
13 اکتوبر کو سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے یمن کے دارالحکومت صنعا میں ایک آئل تنصیب، ایندھن کے ڈپو اور دیگر مقامات کو نشانہ بنایا۔ اتحاد کے مطابق کارروائی کا مقصد حوثیوں کی ان صلاحیتوں کو کمزور کرنا تھا جن کے ذریعے وہ سعودی عرب، یمن اور بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی لڑائی کو وسیع تر امریکہ ایران تنازعے کے اثرات سے بھی جوڑا جارہا ہے۔







