
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ، بعض خاندانوں میں نوکریوں کے نقصان اور تنخواہوں میں کمی کے باعث اسکول فیس کی ادائیگی کا مسئلہ ایک بار پھر سامنے آیا ہے، جس پر تعلیمی اداروں نے والدین کیلئے سہولتوں اور لچکدار ادائیگی کے منصوبوں میں اضافہ کردیا ہے۔
معاملہ اس وقت مزید توجہ کا مرکز بنا جب معروف ریڈیو میزبان کرس فیڈ نے اپنی بیٹیوں کے اسکول کی جانب سے فیس کی عدم ادائیگی پر جاری وارننگ کے طریقہ کار پر عوامی طور پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ ادائیگی کا نہیں بلکہ اطلاع دینے کے انداز کا تھا۔
والدین کی بڑی تعداد اس وقت اسکول فیس کے ساتھ ساتھ ملازمت کے عدم استحکام، غیر ادا شدہ چھٹیوں اور گھریلو اخراجات کے بڑھتے دباؤ کا سامنا کر رہی ہے، جس کے باعث اسکولوں اور والدین کے درمیان بات چیت مزید اہم ہو گئی ہے۔
اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ادارے بھی اپنی ذمہ داریوں جیسے اساتذہ کی تنخواہوں، کیمپس کے اخراجات اور تعلیمی معیار برقرار رکھنے کیلئے فیس کی وصولی پر انحصار کرتے ہیں، تاہم ساتھ ہی وہ والدین کیلئے نرمی اور تعاون کی پالیسی بھی اختیار کر رہے ہیں۔
جی ای ایم ایس ایجوکیشن گروپ کے سی ای او ڈینو ورکی کے مطابق اسکولز کا فوکس طلبہ کے تعلیمی تسلسل اور خاندانی حالات کو سمجھتے ہوئے لچکدار حل فراہم کرنا ہے۔ ان کے مطابق والدین سے براہِ راست رابطہ، ماہانہ اقساط اور انفرادی حالات کے مطابق ادائیگی کے منصوبے دیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہر خاندان کی صورتحال مختلف ہوتی ہے، اس لیے معاملات کو ہمدردی اور سمجھداری کے ساتھ حل کیا جاتا ہے، جبکہ بعض صورتوں میں مزید معاونتی پروگراموں تک بھی رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔
ووڈلیم ایجوکیشن کے سی ای او اسمل احمد نے بتایا کہ ان کا نظام پہلے ہی اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ والدین کو یکمشت ادائیگی کے بجائے آسان ماہانہ اقساط کی سہولت ملے، تاکہ مالی دباؤ کم ہو سکے اور بچوں کی تعلیم متاثر نہ ہو۔
سوئس انٹرنیشنل سائنٹیفک اسکول دبئی کی فنانس منیجر فیمیز والا کیٹیل نے کہا کہ مالی مشکلات کا سامنا کرنے والے والدین کو کھلے دل سے اسکول انتظامیہ سے رابطہ کرنا چاہیے تاکہ باہمی مشاورت سے حل نکالا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر لچکدار اقساط کے منصوبے دیے جاتے ہیں، تاہم ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ فیس کی ادائیگی سے متعلق شفافیت برقرار رکھی جائے کیونکہ تاخیر کی صورت میں رپورٹ کارڈز، منتقلی اور دوبارہ داخلے پر اثر پڑ سکتا ہے۔
دبئی کی تعلیمی ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق اسکول فیس ان خدمات کے بدلے واجب الادا رہتی ہے جو طلبہ کو فراہم کی جاتی ہیں، چاہے وہ روایتی طریقے سے ہوں یا آن لائن تعلیم کی صورت میں۔







