متحدہ عرب امارات

**یو اے ای میں ڈچ-انڈین خاتون کی مثالی کاوش، آوارہ جانوروں کے لیے 100 ماحولیاتی شیلٹرز تیار*

*
**خلیج اردو**

دبئی: متحدہ عرب امارات میں مقیم ڈچ نژاد بھارتی شہری چیکو سنگھ نے آوارہ بلیوں اور کتوں کے تحفظ کے لیے ایک منفرد ماحولیاتی منصوبہ شروع کر رکھا ہے، جس کے تحت انہوں نے اب تک 100 سے زائد ماحول دوست پناہ گاہیں (ایکو شیلٹرز) تیار کی ہیں۔

چیکو سنگھ جو دن میں سینئر مینجمنٹ ٹیکنالوجی کنسلٹنٹ کے طور پر کام کرتی ہیں، شاموں اور ہفتہ وار تعطیلات میں ترک شدہ فرنیچر اور لکڑی کے ٹکڑوں کو کارآمد پناہ گاہوں میں تبدیل کرتی ہیں۔ یہ منصوبہ انہوں نے 2022 کے آخر میں "گرین ایکو پا پراجیکٹ یو اے ای” کے نام سے شروع کیا تھا۔

ان کے مطابق یہ تمام شیلٹرز ری سائیکل شدہ لکڑی سے تیار کیے گئے ہیں جو مقامی کمیونٹی سے جمع کی جاتی ہے۔ ہر شیلٹر میں پانی اور خوراک کے لیے خودکار ڈسپنسر نصب ہیں تاکہ آوارہ جانوروں کو گرمیوں میں سایہ اور ٹھنڈک جبکہ سردیوں میں حرارت میسر آئے۔

چیکو سنگھ کہتی ہیں کہ "یہ منصوبہ خالص جذبۂ خدمت سے جڑا ہے۔ میرا یقین ہے کہ جانوروں کی فلاح اور ماحولیاتی تحفظ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔”

انہوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ جز وقتی مددگار جتندر بھی کام کرتا ہے جو لکڑی کے سامان کو منتقل کرنے میں ان کی مدد کرتا ہے۔ ہر شیلٹر گھر پر ہاتھ سے تیار کیا جاتا ہے اور اس میں صفائی، تحفظ اور ماحول دوست پہلوؤں کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔

یہ شیلٹرز ابوظہبی، دبئی اور شارجہ میں نصب کیے جا چکے ہیں، اور متعدد مقامی رضاکار ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ چیکو سنگھ نہ صرف خود خوراک فراہم کرتی ہیں بلکہ کمیونٹی کے سیکیورٹی گارڈز، صفائی عملے اور امام مساجد کو بھی تربیت دیتی ہیں کہ یہ پناہ گاہیں صاف ستھری اور محفوظ رہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ "ہم شیلٹرز کو خاموش، پوشیدہ جگہوں پر نصب کرتے ہیں تاکہ رہائشیوں کو کوئی تکلیف نہ ہو۔ ہمارا مقصد جانوروں کو تحفظ دینا اور کمیونٹی میں صفائی برقرار رکھنا ہے۔”

چیکو سنگھ چاہتی ہیں کہ ان کا منصوبہ سرکاری سطح پر بھی تسلیم کیا جائے تاکہ پورے ملک میں اسی طرز کے ماحول دوست شیلٹرز قائم کیے جا سکیں۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button