
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل ڈاکٹر حمد سیف الشمسی نے سوشل میڈیا پر گمراہ کن اور من گھڑت ویڈیوز نشر کرنے کے الزام میں مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے 10 افراد کی گرفتاری کا حکم دے دیا ہے۔ ملزمان کو فوری ٹرائل کے لیے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق علاقائی صورتحال کے دوران ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی، جس کے دوران معلوم ہوا کہ کچھ افراد نے سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز شیئر کیں جن میں غلط معلومات پھیلانے کی کوشش کی گئی اور عوام کو گمراہ کیا گیا۔
تحقیقات میں سامنے آیا کہ بعض ویڈیوز میں فضائی دفاعی نظام کی جانب سے حملوں کو روکنے کی حقیقی فوٹیج دکھائی گئی، جبکہ کچھ کلپس میں زمین پر گرتے میزائل یا لوگوں کے ہجوم کو دکھایا گیا۔ اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ ویڈیوز بھی شیئر کی گئیں جن میں امارات کے اہم مقامات پر دھماکوں، حملوں اور بڑے آتشزدگی کے مناظر دکھائے گئے۔
حکام کے مطابق بعض ویڈیوز میں بچوں کے جذبات کو بھی استعمال کیا گیا اور جھوٹا تاثر دیا گیا کہ ملک میں سیکیورٹی خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔ کچھ ویڈیوز میں فوجی تنصیبات کی تباہی کا دعویٰ کیا گیا یا بیرون ملک واقعات کو امارات کے مقامات سے منسوب کیا گیا۔
گرفتار افراد میں مصری، فلپائنی، ویتنامی، پاکستانی، ایرانی، بنگلہ دیشی، کیمرونی، نیپالی اور دو بھارتی شہری شامل ہیں۔
استغاثہ کے مطابق اس نوعیت کی ویڈیوز، چاہے حقیقی ہوں یا مصنوعی، عوامی سلامتی کو متاثر کر سکتی ہیں، غلط فہمی پیدا کرتی ہیں اور دشمن میڈیا کو ایسے مواد فراہم کر سکتی ہیں جس سے حقائق مسخ ہوں یا حکام پر اعتماد کو نقصان پہنچے۔
پبلک پراسیکیوشن نے ملزمان سے تفتیش شروع کر دی ہے اور انہیں عدالتی تحویل میں رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اٹارنی جنرل کے مطابق اس طرح کی سرگرمیاں قانون کے تحت جرم ہیں اور اس پر کم از کم ایک سال قید اور کم از کم ایک لاکھ درہم جرمانہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ریاست کی سلامتی کو متاثر کرنے یا عوام میں خوف پھیلانے کے لیے سوشل میڈیا یا جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔







