خلیج اردو
31 جنوری 2021
دبئی :متحدہ عرب امارات کے مرکزی بنک نے 11 مختلف بنکوں پر 45.75 ملین درہم کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ یہ اس کے بعد کیا گیا جب ملک میں عالمی سطح پر منی لانڈرنگ کے خلاف جنگ میں کردار ادا کرنے کیلئے منی لانڈرنگ کے سخت قوانین نافذ کیے گئے ۔
24 جنوری 2021 کو وفاقی قانون نمبر 20 کے آرٹیکل 14 کے مطابق منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ اور غیر قانونی اور کالعدم تنظیموں کی روک تھام کیلئے قوانین جاری کے گئے تھے۔
مرکزی بنک کے مطابق معاشی پابندی اور جرمانے کی وجہ بنکوں کی جانب سے منی لانڈرنگ کے انسداد کیلئے قوانین پر عمل نہ کرنے اور 2019 کے خاتمے تک کیلئے دیئے گئے لائحہ عمل پر بنکوں کی جانب سے عمل نہ کرنا شامل ہیں۔ ان بنکوں کی جانب سے قوانین کی پاسداری نہیں کی گئی تاہم جرمانہ کیے جا نے کے بعد مرکزی بنک نے بنکوں کے نام ظاہر نہیں کیے۔
گزشتہ ہفتے بھارت کے بنک آف بارودا نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ نیشنل اسٹاک ایکسچینج جہاں وہ درج شدہ ہے ، کو متحدہ عرب امارات کے مرکزی بنک نے 6.833 ملین کا جرمانہ کیا ہے کیونکہ بنک آف بارودا کی جانب سے انسداد منی لانڈرنگ قوانین کی خلاف ورزی کی گئی تھی۔
مرکزی بنک نے بتایا ہے کہ اانسداد منی لانڈرنگ کے قوانین پر سختی سے عمل ہوگا اور خلاف ورزی پر بھاری جرمانوں کے علاوہ دیگر پابندیاں بھی لگیں گے جس میں بنک کو کام سے روکنا بھی شمال ہے۔ مرکزی بنک کے مطابق ملک میں کام کرنے والے بنکوں کو کافی وقت دی اگیا کہ وہ منی لانڈرنگ اور غیر قانونی ادائگیوں کو روکنے سے متعلق اپنے تیاری مکمل کرے اور قوانین کا پاس رکھیں ۔
بنک نے خبر دار کیا ہے کہ اینٹی منی لانڈرنگ لاز کی پاسداری کریں یا پھر سخت قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرے۔
Source : Khaleej Times







