متحدہ عرب امارات

امریکہ اور اسرائیل کے وفد کے دورہ متحدہ عرب امارات کے بعد اعلامیہ جاری کر دیا گیا

بیان میں  امریکہ اور متحدہ عرب امارات کی طرف سے فلسطینی رہمناؤں پر زور دیا گیا کہ وہ اسرائیل سے امن کے قیام کے لیے رابطہ کریں

 

خلیج اردو آن لائن: امریکہ اور اسرائیل کے وفد کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے دورے کے بعد ایک سہ فریقی اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔ اعلامیے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سینئر مشیر جیرڈ کشنر کی جانب سے کہا گیا کہ امریکہ، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے 13 اگست کو ان ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدے کے حوالے سے اپنے عزم کو دہرایا ہے کہ یہ معاہدہ مستحکم اور مربوط ہے، مزید برآں، یہ معاہدہ مشرق وسطی کی خوشحالی کی جانب ایک بہت بڑا اور دلیرانہ قدم ہے۔

تینوں مملاک کی جانب سے مشترکہ طور پر جاری کیے گئے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس معاہدے نے اس خطے کے مسائل اور چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پہلے موجود روایتی سوچ اور طریقہ کار کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس معاہدے میں روایتی سوچ میں تبدیلی کے ساتھ ایسے اقدامات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے جن کے ٹھوس نتائج سامنے آئیں گے۔ مزید برآں، اس معاہدے میں ایسے اقدامات اٹھانے کا وعدہ کیا گیا ہے جن کی بدولت حالیہ کشیدگی میں کمی آئے گی مستقبل کے کسی ممکنہ تنازعے کو روکنے میں مددگار ثابت ہوںگے۔

تینوں مملاک نے مشترکہ طور پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہد مناسب وقت پر ہوا ہے۔ اور گزشتہ دہائی کےدوران جنگ اور تباہی کےسبب نقل مکانی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث نوجوان آبادی کے تناسب میں تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ بیان میں تسلیم کیا گیا ہے کہ  اگر ہم آنے والی نسلوں اور موجودہ نسلوں کی ضروریات کو پورا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

سہ فریقی اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے تاریخ پیش رفت ہے۔ اور اسرائیل نے اپنے توسیعی منصوبوں کو معطل کر دیا ہے۔

بیان میں  امریکی اور متحدہ عرب امارات کی طرف سے فلسطینی رہمناؤں پر زور دیا گیا کہ وہ اسرائیل سے امن کے قیام کے لیے رابطہ کریں۔

خیال رہے کہ ہفتے کے روز متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے خلاف اپنے 40 سالہ بائیکاٹ قانون کو باضابطہ طور پر ختم کردیا اور متحدہ عرب امارات کی کمپنیوں اور دیگر افراد کو اسرائیل کے ساتھ براہ راست تجارت کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

مزید برآں، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات خارجہ امور اور غذائی تحفظ کے تعان کے حوالے سے باقاعدہ بات چیت کا آغاز کر چکے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے اسرائیل اور  متحدہ عرب امارات کے ایک دوسرے کے مابین فون لائن بحال کر چکے ہیں اور تحقیق کے میدان میں تعاون کر رہے ہیں جس سے کورونا خلاف جنگ میں پیش رفت کی امید کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ اماراتی، اسرائیلی اور امریکی عہدیدار سات اہم شعبوں میں باہمی تکنیکی تعاون پر تبادلہ خیال کریں گے جن میں سرمایہ کاری، مالیات، صحت، خلائی پروگرام، ہوا بازی، خارجہ پالیسی اور سفارتی امور اور سیاحت اور ثقافت شامل ہیں۔

بیان میں دنیا بھر کی حکومتوں کی طرف سے اس معاہدے کے خیر مقدم کا شکریہ ادا کیا گیا ہے۔

Source: WAM

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button