متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات کا 15 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی کا تاریخی فیصلہ، ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی جوابدہ بنا دیا گیا

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرتے ہوئے ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بچوں کی آن لائن حفاظت کا براہِ راست ذمہ دار قرار دے دیا ہے۔ نئے قانون کے تحت کمپنیوں کو 12 ماہ کے اندر کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس کی نشاندہی، معطلی اور حذف یقینی بنانا ہوگا، بصورت دیگر ان کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکے گی۔

قانونی ماہر بائرن جیمز کے مطابق، "یہ صرف پابندی نہیں بلکہ جوابدہی کا نیا نظام ہے۔ بچوں کی رازداری کا حق پہلے بھی موجود تھا، مگر اب اس کے تحفظ کی ذمہ داری براہِ راست سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ڈال دی گئی ہے۔” ان کے مطابق قانون واضح کرتا ہے کہ والدین کی رضامندی بھی ان پابندیوں کو ختم نہیں کر سکتی کیونکہ کم عمر بچے اپنی نجی زندگی کو ہمیشہ کے لیے عوامی بنانے پر رضامندی دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

نئے قانون کے مطابق 15 سال سے کم عمر بچے ذاتی اکاؤنٹ نہیں بنا سکیں گے، مواد شائع نہیں کر سکیں گے، تبصرہ نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی مکمل انٹرایکٹو سہولیات استعمال کر سکیں گے، جبکہ 15 اور 16 سال کی عمر کے صارفین کے لیے محدود رابطوں اور اسکرین ٹائم کنٹرول سمیت خصوصی حفاظتی اقدامات لازمی ہوں گے۔

بائرن جیمز نے انکشاف کیا کہ حال ہی میں ابوظہبی کی ایک عدالت نے ایک مقدمے میں والدین کو بھی اپنے بچوں کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے سے روک دیا تھا کیونکہ بچوں کی رازداری اور فلاح کو اولین ترجیح دی گئی۔ ان کے مطابق یہی اصول اب گھروں تک بھی پہنچ رہا ہے، صرف سوشل میڈیا شخصیات تک محدود نہیں رہا۔

قانون پر عمل درآمد کے لیے سوشل میڈیا کمپنیوں کو عمر کی تصدیق کے مؤثر نظام متعارف کرانا ہوں گے، جن میں سرکاری ڈیجیٹل شناخت، بایومیٹرک تصدیق یا مصنوعی ذہانت کے ذریعے عمر کا تخمینہ لگانے جیسے طریقے شامل ہو سکتے ہیں۔

الاعظم لیگل کنسلٹنسی کے ڈائریکٹر جنرل محمد صالح المعیسری نے کابینہ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا، "یہ فیصلہ بچوں کے بہترین مفاد میں ہے، جو انہیں سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے محفوظ رکھتے ہوئے ایک فطری بچپن گزارنے کا موقع فراہم کرے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے یہ فیصلہ سوشل میڈیا کے بچوں پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد کیا ہے۔

یہ قانون بچوں کی ڈیجیٹل رازداری کے تحفظ کے لیے متحدہ عرب امارات کے سخت ترین اقدامات میں شمار کیا جا رہا ہے اور اس سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی قانونی ذمہ داریوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button