
خلیج اردو
بکر انعام کی مختصر فہرست میں شامل رہنے والی بھارتی نژاد مصنفہ اوَنی دوشی کا دوسرا ناول "دی فرسٹ ہاؤس” شائع ہو گیا ہے، جس میں شادی، خاندان، نفسیاتی کشمکش اور ذاتی شناخت کے بحران کو "گھریلو خوف” کے منفرد انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
ناول کی کہانی ایک ایسی خاتون کے گرد گھومتی ہے جس کی بظاہر خوشحال ازدواجی زندگی اس وقت بکھر جاتی ہے جب اس کا شوہر اچانک علیحدگی کا اعلان کر دیتا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے ماضی، تعلقات اور اپنی ذات کو نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ مصنفہ کے مطابق کہانی میں جھینگر، دیوی ڈیانا اور دیگر علامتیں انسان کی اندرونی تبدیلی اور نفسیاتی سفر کی نمائندگی کرتی ہیں۔
اوَنی دوشی نے خلیج ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا، "کبھی کبھی حقیقت سے لاعلم رہنا انسان کی بقا کا ذریعہ بن جاتا ہے، لیکن جب یہی لاعلمی ہماری اپنی ذات کو نقصان پہنچانے لگے تو وہ خطرناک شکل اختیار کر لیتی ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ لوگ اکثر خاندان یا شادی کو بچانے کے لیے اپنی شخصیت کے کئی حصے قربان کر دیتے ہیں، مگر ایک مرحلے پر یہی عمل انسان کو اپنی اصل شناخت سے دور کر دیتا ہے۔
مصنفہ نے کہا کہ ناول میں خواتین کے مختلف کردار پدرشاہی معاشرے کے اندر جاری نفسیاتی جدوجہد کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ تبدیلی کا عمل ہمیشہ خوشگوار نہیں ہوتا بلکہ اس میں خوف، درد اور پرانی شناخت کا خاتمہ بھی شامل ہوتا ہے۔ ان کے مطابق نئی زندگی کے آغاز کے لیے بعض اوقات پرانی کیفیت کو ختم کرنا ناگزیر ہوتا ہے۔
اوَنی دوشی نے بتایا کہ انہوں نے اس ناول کا ابتدائی مسودہ دبئی میں السرکل فاؤنڈیشن کی ادبی رہائش کے دوران تحریر کیا، جہاں مقامی ماحول، باغ اور آوارہ بلیوں نے بھی کہانی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ ناول قاری کو اس سوال پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ تعلقات نبھاتے ہوئے اپنی اصل شناخت کو کیسے برقرار رکھا جا سکتا ہے۔







