متحدہ عرب امارات

نظر کی بحالی کا معجزہ: ابوظبی میں ماں نے دوبارہ اپنے بچوں کو صاف دیکھ لیا

خلیج اردو
ابوظبی: انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والی 34 سالہ ایلزبتھ بیلا لوکیتاساری، جو کئی برسوں سے بینائی کی شدید کمزوری کا شکار تھیں، اب ایک کامیاب آپریشن کے بعد اپنے بچوں کے چہروں کو دوبارہ صاف دیکھ سکتی ہیں۔ ان کی بینائی کی بحالی کی یہ داستان متحدہ عرب امارات میں واقع مورفیلڈز آئی ہسپتال ابوظبی کے ڈاکٹروں کی کاوشوں کی مرہون منت ہے۔

ابوظبی منتقل ہونے سے قبل ایلزبتھ کو انڈونیشیا میں صرف دوا اور آئی ڈراپس تجویز کیے جاتے رہے اور انہیں بتایا گیا کہ مزید کوئی علاج ممکن نہیں۔ لیکن ابوظبی میں ڈاکٹر عثمان محمود کی قیادت میں کیے گئے مکمل معائنے سے معلوم ہوا کہ ان کی بیماری کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ ان میں دونوں آنکھوں میں شدید موتیا اور "اسٹریبس مس” یعنی آنکھوں کی ٹیڑھی حرکت کی تشخیص ہوئی، جو ان کی بینائی کو مزید متاثر کر رہی تھی۔

ڈاکٹر عثمان محمود نے وضاحت کی کہ ان کی آنکھوں میں موتیا دائمی یووائٹس کی وجہ سے پیدا ہوا، اور اسے دور کرنے کے لیے ایک جامع اور مربوط آپریشنل منصوبہ تیار کیا گیا۔ سب سے پہلے بائیں آنکھ اور بعد ازاں دائیں آنکھ سے موتیا نکالا گیا۔ اس کے بعد ان کی آنکھوں کی سیدھ درست کرنے کے لیے ماہر چشم ڈاکٹر عرفان خان نے آپریشن کیا۔

ڈاکٹر عرفان خان کے مطابق یہ غلط فہمی عام ہے کہ کمزور بینائی والی آنکھوں پر اسٹریبس مس کی سرجری نہیں کی جا سکتی، حالانکہ درست طریقے سے کی گئی سرجری کے نتائج دیرپا ہو سکتے ہیں۔

ایلزبتھ نے جذباتی انداز میں بتایا: "جب پٹیاں کھلیں تو سب سے پہلے میں نے اپنی بیٹی کی مسکراہٹ دیکھی، وہ لمحہ میرے لیے نئی زندگی جیسا تھا۔ مورفیلڈز کی ٹیم نے نہ صرف میری بینائی واپس دی بلکہ میری خود اعتمادی بھی بحال کر دی۔”

ان کے شوہر موچامد صالح وِچکاسونو نے بتایا کہ وہ پہلے لوگوں کو صرف آواز سے پہچانتی تھیں، مگر اب وہ سب کو دیکھ سکتی ہیں، اور یہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا تحفہ ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button