
خلیج اردو
مشرق وسطیٰ، جو کبھی ٹیکنالوجی میں پیچھے سمجھا جاتا تھا، اب تیزی سے اپنی عالمی حیثیت بدل رہا ہے اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے میدان میں ایک طاقتور مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ وژنری پالیسیوں، ریاستی سرمایہ کاری اور ڈیٹا و کمپیوٹ خود مختاری کے عزم نے خلیجی ممالک کو تجرباتی مرحلے سے آگے بڑھا کر اسے قومی معیشتوں کا بنیادی حصہ بنا دیا ہے۔
فوربز ٹیکنالوجی کونسل اور فاسٹ کمپنی ایگزیکٹیو بورڈ کے رکن اوتار سیمبھی کا کہنا ہے کہ خلیج نے اے آئی کو انٹرپرائز سطح پر عملی شکل دے کر اسے قومی معاشی ماڈلز کا حصہ بنا لیا ہے، جو ترقی یافتہ مارکیٹوں میں بھی کم دیکھنے کو ملتا ہے۔
ریاستی حکمت عملی اور عالمی امنگیں
2017 میں متحدہ عرب امارات دنیا کا پہلا ملک بنا جس نے وزیر مملکت برائے مصنوعی ذہانت مقرر کیا اور نیشنل اے آئی اسٹریٹیجی 2031 شروع کی۔ سعودی عرب نے بھی وژن 2030 کے تحت اے آئی کو مرکزی ترجیح بناتے ہوئے سعودی ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اتھارٹی (SDAIA) قائم کی۔
رائٹرز کی جون 2025 کی رپورٹ کے مطابق، یو اے ای کا "اسٹار گیٹ” منصوبہ دنیا کے سب سے بڑے اے آئی کمپیوٹ کیمپسز میں سے ایک ہوگا، جہاں ایک لاکھ سے زائد این ویڈیا جی پی یوز نصب ہوں گے۔ پانچ گیگا واٹ کا یہ منصوبہ یو اے ای کو خود مختار ہائپر اسکیل کمپیوٹ لیڈر کے طور پر سامنے لا رہا ہے۔
سرمایہ کاری سے جدت کی رفتار
سعودی عرب کا پبلک انویسٹمنٹ فنڈ مستقبل کی ٹیکنالوجیز میں 40 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کر رہا ہے جبکہ ابوظبی کا مبادلہ، ایم جی ایکس پلیٹ فارم کے تحت، 100 ارب ڈالر اے آئی، کوانٹم کمپیوٹنگ اور بایو ٹیک میں لگا رہا ہے۔
عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں جیسے اے ڈبلیو ایس، گوگل اور مائیکروسافٹ نے خطے میں ڈیٹا سینٹرز قائم کیے ہیں تاکہ ڈیٹا ریذیڈنسی قوانین کی پاسداری کی جا سکے، جبکہ جی42 جیسے ادارے مقامی قوانین کے مطابق کمپیوٹ پلیٹ فارم تیار کر رہے ہیں۔
مقامی ٹیلنٹ میں سرمایہ کاری
ابوظبی کی محمد بن زاید یونیورسٹی آف آرٹیفیشل انٹیلیجنس دنیا کی پہلی گریجویٹ سطح کی اے آئی یونیورسٹی ہے، جو ایم آئی ٹی اور آکسفورڈ کے ساتھ مل کر مقامی و عالمی ماہرین کو یکجا کر رہی ہے۔ سعودی عرب کا نیشنل اے آئی ٹریننگ پروگرام 2026 تک ایک لاکھ افراد کو تربیت دینے کا ہدف رکھتا ہے۔
اہم شعبوں میں عملی استعمال
خلیجی ممالک بجلی کی ترسیل، اسمارٹ شہروں کی منصوبہ بندی، اور صحت کے شعبے میں اے آئی کا براہِ راست استعمال کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایم بی زیڈ یو اے آئی کے محققین نے الزائمر کی ابتدائی تشخیص کے لیے جدید ماڈلز تیار کیے ہیں۔
اعتماد اور ریگولیٹری تیاری
ابوظبی گلوبل مارکیٹ اور سعودی عرب کی ساما، محفوظ اے آئی تجربات کے لیے ریگولیٹری فریم ورک بنا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، شفافیت اور اخلاقی نگرانی کو ابتدا سے شامل کرنا پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے۔
عالمی ٹیلنٹ کی واپسی
لندن، نیویارک اور سنگاپور سے اعلیٰ ٹیکنالوجی ماہرین خلیجی ممالک میں قومی اے آئی پروگرامز کی قیادت سنبھال رہے ہیں، جو مقامی سمجھ بوجھ اور عالمی تجربے کا امتزاج فراہم کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیج اب پیچھے نہیں بلکہ آگے نکل رہی ہے اور یہ سب ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہو رہا ہے۔






