
غزہ سے انخلا کے بعد اب کوئی جگہ گھر جیسی محسوس نہیں ہوتی، فلسطینی صحافی، شاعرہ اور مصنفہ پلیستیا العقاد نے کہا ہے کہ ہجرت کے بعد ’گھر‘ کا تصور عارضی ٹھکانوں میں بکھر چکا ہے۔
خلیج اردو
نومبر 2023 میں خاندان کے ہمراہ غزہ چھوڑنے کے بعد پلیستیا العقاد اس وقت آسٹریلیا اور لبنان کے درمیان رہائش پذیر ہیں، تاہم کسی بھی ملک میں مستقل رہائش حاصل نہیں، جس کے باعث انہیں بار بار ویزوں کی تجدید اور اپنی موجودگی کا جواز پیش کرنا پڑتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ “ہمیشہ ویزے رینیو کرو، خود کو ثابت کرو، یہ بتاؤ کہ تم کہاں سے تعلق رکھتے ہو، اور پھر بھی کوئی جگہ مکمل طور پر گھر نہیں لگتی۔”
ہفتے کے روز ایمریٹس ایئرلائن فیسٹیول آف لٹریچر میں گفتگو کرتے ہوئے پلیستیا العقاد نے بے دخلی، جلاوطنی اور عوامی شناخت کے اثرات پر بات کی، اور بتایا کہ ان کی آن لائن خاموشی کا ایک دن بھی فالوورز میں خوف پیدا کر دیتا ہے کہ شاید انہیں کچھ ہو گیا ہو۔
غزہ میں پیدا ہونے والی پلیستیا نے بتایا کہ نومبر 2023 میں انہیں صرف پانچ منٹ میں سامان سمیٹ کر گھر چھوڑنا پڑا، ایک ایسا گھر جو اب کبھی ویسا نہیں رہے گا۔ ان کے بقول “ہر بار بیگ ہلکا ہوتا جاتا ہے، یہاں تک کہ ایک دن احساس ہوتا ہے کہ آپ بے گھر ہو چکے ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ چار ملین سے زائد فالوورز ہونا ایک ذمہ داری بھی ہے اور بوجھ بھی، کیونکہ “جتنا زیادہ نظر آؤ گے، اتنا ہی زیادہ نشانہ بنو گے۔”
اپنی کتاب The Eyes of Gaza کے بارے میں پلیستیا نے کہا کہ خوف سرحدوں کے پار بھی ان کا پیچھا کرتا رہا، یہاں تک کہ وہ اپنی ذاتی ڈائری میں بھی خود سنسرشپ کرنے لگیں۔ یہ کتاب اکتوبر 2023 سے جنوری 2025 تک کی ڈائری، شاعری اور یادداشتوں پر مشتمل ہے۔
صحافت کے انتخاب پر انہوں نے کہا کہ یہ کیریئر نہیں بلکہ ایک مشن ہے۔ “میں نے دیکھا کہ ہمیں کس طرح غیر انسانی بنا کر پیش کیا جاتا ہے، میں بیانیہ واپس لینا چاہتی تھی۔”
انہوں نے کہا کہ فلسطینی خوابوں کے ساتھ نہیں بلکہ ذمہ داریوں کے ساتھ بڑے ہوتے ہیں، اور اگر قبضہ نہ ہوتا تو شاید وہ تھیٹر یا کامیڈی کی دنیا میں ہوتیں۔
پلیستیا العقاد نے انکشاف کیا کہ وہ مستقبل میں صحافت سے آگے کہانی سنانے کے دیگر ذرائع، بشمول اداکاری، کو بھی دریافت کرنا چاہتی ہیں، اور ایک فلسطین پر مبنی فلم میں کاسٹ ہونے کی تصدیق بھی کی۔
انہوں نے بتایا کہ کتاب کی اشاعت کے دوران زبان پر سخت جانچ پڑتال کی گئی، خاص طور پر امریکا میں، جہاں بعض الفاظ کو سیاسی قرار دے کر نرم کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کا کہنا تھا “آپ کسی کے جئے ہوئے تجربے کو سنسر نہیں کر سکتے۔





