
یو اے ای کی وفاقی قومی کونسل میں سرکاری ملازمین کے لیے زچگی کی تنخواہ سمیت چھٹی کو کم از کم 98 دن تک بڑھانے کا مطالبہ ایک بار پھر سامنے آیا ہے، جبکہ خاندانی سپورٹ پالیسیوں پر جامع نظرثانی کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
خلیج اردو
یہ تجاویز فیملی پروٹیکشن، سماجی استحکام اور ورک لائف بیلنس پر ہونے والے ایف این سی اجلاس میں زیرِ بحث آئیں، جس میں وزیرِ خاندان ثنا بنت محمد سہیل بھی شریک تھیں۔
اجلاس میں ایک خاتون رکن نے نشاندہی کی کہ موجودہ پالیسیاں زیادہ تر خواتین اور ماؤں پر مرکوز ہیں، جبکہ خاندان سنبھالنے والے مردوں، بیواؤں کے ساتھ ساتھ بیوہ مردوں اور گھر کے سربراہ بزرگ مردوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ منیٰ حماد نے سوال اٹھایا کہ “جب ہم خاندانی بااختیاری کی بات کرتے ہیں تو صرف خواتین کا ذکر کیوں ہوتا ہے، مردوں کو کیوں نہیں؟”
ان کا کہنا تھا کہ اگر خواتین کے لیے حکومتی سپورٹ موجود ہے تو شریکِ حیات کے انتقال کے بعد مرد بھی تو بیوہ ہوتے ہیں، جبکہ مرد بھی گھریلو تشدد کا شکار ہو سکتے ہیں اور انہیں بھی تحفظ کے دائرے میں آنا چاہیے۔
وزیرِ خاندان ثنا بنت محمد سہیل نے اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ “خاندانی پروگرامز پورے خاندان کے لیے ہونے چاہئیں اور تمام افراد کو فائدہ پہنچانا چاہیے”، اور اس نکتے کو آئندہ پالیسی سازی میں مدِنظر رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔
اجلاس میں وفاقی حکومت کے ملازمین کے لیے زچگی کی چھٹی کو عالمی معیار کے مطابق کم از کم 98 دن تک بڑھانے، اور لچکدار و ریموٹ ورک کے واضح قومی اصول طے کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا، خاص طور پر چھوٹے بچوں کی ماؤں، بزرگوں کی دیکھ بھال کرنے والے والدین اور افرادِ باہمت کے خاندانوں کے لیے۔
کونسل اراکین نے زور دیا کہ فلیکسبل ورک سہولت آجر کی صوابدید کے بجائے پالیسی کا حصہ ہونی چاہیے، جس میں منظوری کے لیے واضح ٹائم لائنز مقرر ہوں۔
اجلاس میں گھریلو تشدد سے متعلق قوانین میں ترامیم کی سفارش بھی کی گئی، جن میں صلح سے قبل لازمی نفسیاتی جانچ، اور بار بار تشدد یا بچوں، حاملہ خواتین، بزرگوں اور افرادِ باہمت کے کیسز میں مفاہمت پر پابندی شامل ہے۔
ایف این سی نے فیملی گائیڈنس اور کونسلنگ سینٹرز کو عدالتوں سے نکال کر وزارتِ خاندان کے تحت لانے کی تجویز دی، تاکہ خاندان قانونی کارروائی کے خوف کے بغیر ابتدائی مرحلے میں مدد حاصل کر سکیں۔





