
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات نے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے لیے نیا قومی لائسنسنگ فریم ورک منظور کر لیا ہے، جس کا مقصد جامعات کے نظم و نسق کو مضبوط بنانا، طلبہ کے تعلیمی تجربے کو بہتر بنانا، ضابطہ جاتی کارروائیوں کو آسان بنانا اور جامعات کے صنعتوں و آجر اداروں کے ساتھ روابط کو فروغ دینا ہے۔
یہ منظوری متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیراعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کی جانب سے دی گئی۔ نیا فریم ورک اعلیٰ تعلیم اور سائنسی تحقیق کے وفاقی قانون پر عملدرآمد کا حصہ ہے۔
اس فریم ورک کے تحت ملک بھر کی جامعات اور کالجوں، بشمول فری زونز میں قائم تعلیمی اداروں، کے لیے لائسنسنگ کا ایک متحدہ قومی نظام نافذ کیا جائے گا، جبکہ قومی معیار پر عملدرآمد کے ساتھ مقامی حکام کے اختیارات کا بھی احترام کیا جائے گا۔
قائم مقام وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و سائنسی تحقیق اور وزیر برائے انسانی وسائل و اماراتائزیشن ڈاکٹر عبدالرحمن العور نے کہا کہ اس فیصلے سے وزارت، مقامی حکام اور تعلیمی اداروں کے درمیان ایک مربوط لائسنسنگ نظام قائم ہوگا، جس سے شفافیت بڑھے گی، ضابطہ جاتی پیچیدگیاں کم ہوں گی اور خدمات تک رسائی آسان ہوگی۔
نئے فریم ورک کے تحت الیکٹرانک انضمام کے ذریعے جامعات اور قومی ریکارڈ کے درمیان ڈیٹا پر مبنی نگرانی کا نظام بھی قائم کیا جائے گا، جس سے حکام کو بروقت اور درست معلومات کی بنیاد پر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی۔
فریم ورک میں نئی جامعات کے قیام سے لے کر موجودہ اداروں کے لائسنس کی تجدید تک تمام مراحل کے لیے واضح قواعد وضع کیے گئے ہیں۔ اس میں رسک اسسمنٹ، تعمیل کی نگرانی، ادارہ جاتی پائیداری، طلبہ کے تحفظ، مالی ضمانت، آڈٹ شدہ مالیاتی رپورٹس اور تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل کو یقینی بنانے سے متعلق شرائط بھی شامل ہیں۔
حکام کے مطابق نئے نظام میں ملکیت، انتظامیہ اور تعلیمی فیصلوں کے اختیارات کو الگ رکھنے پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ شفافیت، احتساب اور مؤثر طرزِ حکمرانی کو فروغ دیا جا سکے۔







