
خلیج اردو
بھارت کی دہلی ہائی کورٹ نے بھارتی سفارتی مشنز کے لیے قونصلر خدمات کی آؤٹ سورسنگ سے متعلق ٹینڈر منسوخ کرتے ہوئے نئے سرے سے ٹینڈر جاری کرنے کا حکم دے دیا ہے، جس کے بعد متحدہ عرب امارات میں بھارتی شہریوں کو پاسپورٹ کی تجدید اور دیگر قونصلر خدمات میں مزید تاخیر کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
عدالتی حکم کا اطلاق ابوظہبی سمیت کویت، سنگاپور اور آسٹریلیا میں بھارتی سفارتی مشنز پر بھی ہوگا۔
دہلی ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ ان دو کمپنیوں کی درخواستوں پر دیا جنہیں تکنیکی جانچ کے مرحلے میں نااہل قرار دیا گیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ متعلقہ حکام نے بولیوں کی جانچ کے دوران دیے گئے نمبروں کی بنیاد واضح نہیں کی، اس لیے ٹینڈر کا عمل شفاف نہیں تھا۔
عدالت نے الہند ٹورز اینڈ ٹریولز کو دیا گیا ٹھیکہ کالعدم قرار دیتے ہوئے بھارتی وزارتِ خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ ایک ماہ کے اندر تمام متعلقہ سفارتی مشنز کے لیے نئے ریکویسٹ فار پروپوزل (RFPs) جاری کیے جائیں۔
کیرالہ کی کمپنی الہند ٹورز اینڈ ٹریولز یکم جولائی سے خدمات سنبھالنے والی تھی۔ کمپنی نے متحدہ عرب امارات میں 16 مراکز، جن میں بر دبئی کا 12 ہزار مربع فٹ پر مشتمل مرکز بھی شامل ہے، قائم کر لیے تھے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ سروس میں خلل سے بچنے کے لیے موجودہ سروس فراہم کرنے والوں کو عارضی طور پر خدمات جاری رکھنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ متعلقہ بھارتی سفارتی مشنز کریں گے۔
یکم جولائی سے بی ایل ایس اور ایس جی آئی وی ایس کی خدمات ختم ہونے اور الہند کے باضابطہ طور پر ذمہ داریاں نہ سنبھالنے کے باعث ابوظہبی میں بھارتی سفارت خانہ اور دبئی میں بھارتی قونصل خانہ گزشتہ 17 برس میں پہلی بار پاسپورٹ، ویزا اور تصدیقی خدمات براہِ راست اپنے دفاتر سے فراہم کر رہے ہیں۔
بھارتی سفارتی مشنز نے شہریوں کو غیر مجاز ایجنٹوں سے بھی محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ سرکاری پورٹل پر اپائنٹمنٹ مفت حاصل کی جا سکتی ہے، جبکہ کسی بھی تیسرے فریق کو اس کے لیے فیس وصول کرنے کی اجازت نہیں۔







