
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات نے آپریشن “الفارس الشہم 3” کے تحت غزہ کے لیے 13واں امدادی جہاز روانہ کر دیا۔ “مدر آف دی ایمریٹس” نامی یہ بحری جہاز ہزاروں ٹن امدادی سامان لے کر مصر کے شہر العریش روانہ ہوا، جہاں سے امداد غزہ منتقل کی جائے گی۔
تین منزلہ یہ جہاز خوراک، طبی سامان، پانی اور دیگر امدادی اشیاء سے مکمل طور پر بھرا ہوا ہے۔ حکام کے مطابق اس میں 7 ہزار 300 ٹن سے زائد امداد موجود ہے، جس میں رمضان سے قبل غذائی سامان پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
ایمریٹس ریڈ کریسنٹ کے چیئرمین حمدان المزروعی نے اس موقع پر کہا، "ہم شیخہ فاطمہ بنت مبارک کے انسانی خدمات کے بارے میں سن کر بڑے ہوئے ہیں، سخاوت کا ذکر ہو تو ان کا نام سب سے پہلے آتا ہے۔ ذاتی طور پر مجھے ایسے فخر محسوس ہوتا ہے جیسے یہ جہاز میری اپنی والدہ کے نام سے منسوب ہو۔”
انہوں نے بتایا کہ جنگ کے آغاز سے غزہ تک امداد پہنچانا ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ "نقل و حمل، اجازت نامے اور سکیورٹی امور رکاوٹ بنتے ہیں، بعض اوقات سامان پہنچنے کے باوجود تاخیر ہو جاتی ہے، مگر ہماری ٹیمیں دن رات بغیر وقت دیکھے کام کرتی ہیں تاکہ خوراک اور دوا ضرور مستحقین تک پہنچے۔”
انہوں نے جنگی حالات کی سنگینی بیان کرتے ہوئے کہا، "ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ وہ مریض کا معائنہ کر رہے تھے جب پہلا بم گرا، پھر دوسرا، اور تیسرے دھماکے کے بعد اسے جیسے عادت سی ہو گئی، کیونکہ اگر وہ باہر کے حالات پر غور کرتے تو کام جاری نہ رکھ پاتے۔”
جہاز میں موجود امداد میں 4 ہزار 267 ٹن خاندانی فوڈ پیکجز، 386 ٹن اجتماعی کچن اور بیکریوں کے لیے اشیائے خورونوش، اور 290 ٹن کھجوریں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 3 ہزار 495 خیمے، کپڑے، ہنگامی ریلیف کٹس اور گھریلو استعمال کی اشیاء بھی شامل ہیں۔ طبی سامان میں وینٹی لیٹرز، اسپتال کے بیڈز، وہیل چیئرز اور دیگر آلات شامل ہیں جن کا وزن 54 ٹن بتایا گیا ہے۔
ابوظہبی میری ٹائم اکیڈمی کے کیڈٹس بھی اس مشن کا حصہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سفر تقریباً 15 روز پر مشتمل ہوتا ہے اور سامان کی روزانہ جانچ کی جاتی ہے تاکہ امداد محفوظ طریقے سے اپنی منزل تک پہنچے۔
حمدان المزروعی نے کہا، "ہم سو فیصد یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ امداد مستحق افراد تک پہنچتی ہے۔ یہ ہماری 13ویں کھیپ ہے اور ہم یہ خدمت جاری رکھیں گے۔”
یہ اقدام یو اے ای کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ مشکل حالات میں بھی انسانی ہمدردی اور امداد کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔







