متحدہ عرب امارات

کانپور حادثہ: صنعتکار کا بیٹا گرفتار، گھنٹوں میں ضمانت

خلیج اردوکانپور حادثہ: صنعتکار کا بیٹا گرفتار، گھنٹوں میں ضمانت
بھارتی شہر کانپور میں لیمبورگینی کار سے متعدد افراد کو کچلنے کے الزام میں گرفتار کیے گئے معروف تمباکو صنعتکار کے بیٹے کو چند گھنٹوں میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

35 سالہ شیوم مشرا، کے کے مشرا کے صاحبزادے ہیں۔ پولیس کے مطابق انہیں جمعرات کو گرفتار کیا گیا اور اسی روز 20 ہزار بھارتی روپے (تقریباً 800 درہم) کے مچلکوں پر رہائی مل گئی۔ انہوں نے عدالت میں اپنا مقدمہ خود لڑا۔

پولیس کی ابتدائی تحقیقات، سی سی ٹی وی فوٹیج اور عینی شاہدین کے بیانات کے مطابق لیمبورگینی ریویولٹو تیز رفتاری سے چلائی جا رہی تھی جب اس نے مرکزی شاہراہ پر کئی افراد کو ٹکر ماری۔ گاڑی کی مالیت تقریباً 10 کروڑ بھارتی روپے (4.04 ملین درہم) بتائی گئی ہے۔

پولیس نے 14 روزہ ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ شیوم مشرا تحقیقات میں تعاون نہیں کر رہے تھے اور گرفتاری سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے۔

حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ نجی سکیورٹی اہلکار ایک شخص کو ڈرائیونگ سیٹ سے نکال کر دوسری گاڑی میں لے جا رہے ہیں۔ ابتدائی ایف آئی آر میں نامعلوم ڈرائیور کا ذکر تھا، تاہم بعد ازاں شواہد سامنے آنے پر شیوم مشرا کا نام شامل کیا گیا۔

ایک شخص ‘موہن’ نے خود کو اصل ڈرائیور ظاہر کرتے ہوئے عدالت میں سرنڈر کرنے کی کوشش کی، تاہم عدالت نے درخواست مسترد کر دی۔ موہن کا دعویٰ تھا، "میں گاڑی چلا رہا تھا، اچانک شیوم مجھ پر گر گئے، میں گھبرا گیا، گاڑی پہلے رکشے سے ٹکرائی، پھر ڈیوائیڈر پر چڑھ گئی۔”

شیوم مشرا کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ مرگی کے مرض میں مبتلا ہیں اور زیر علاج تھے۔

دوسری جانب حادثے میں زخمی ہونے والے 18 سالہ ای رکشہ ڈرائیور محمد توفیق نے ابتدائی طور پر مقدمہ درج کرایا، تاہم ملزم کے وکلا کا کہنا ہے کہ متاثرہ فریق نے کیس آگے نہ بڑھانے اور باہمی تصفیے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ واقعہ بھارت میں بااثر شخصیات کے خلاف قانونی کارروائی اور انصاف کے نظام پر ایک بار پھر سوالات اٹھا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button