خلیج اردو آن لائن: باقی دنیا کی طرح متحدہ عرب امارات میں بھی کورونا وائرس کی وبا کے باعث اس سال عید گزشتہ سالوں کی عید سے مختلف ہوگی۔ اماراتی حکومت نے عید پر اجتماعات پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
تاہم اپنے ہم وطنوں اور گھر والوں سے ہزاروں کلومیٹر دور متحدہ عرب امارات میں کام کے لیے آئے تارکین وطن اپنے ساتھی تارکین وطن کے ساتھ عید منا رہے ہیں اور اپنے گھر والوں کو یاد کر رہے ہیںَ
متحدہ عرب امارات میں ایک کلیننگ کمپنی میں کام کرنے والی ایک بنگہ دیشی خاتون نرگش اختر نے عید کے موقع پر گھر والوں سے دور ہونے پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے نجی خبر رساں ادارے خلیج ٹائمز کو بتایا کہ اسے یاد نہیں کہ اس آخری بار اپنے گھر والوں کے ساتھ عید کب منائی تھی۔ لیکن مجھے اس بات کا کوئی افسوس نہیں ہے میں خوش قسمت ہوں کہ میں متحدہ عرب امارات میں ہوں۔ نرگش نے مزید بتایا کہ ” اس بڑی عید پر ہم مٹن اور بیف خریدا ہے اور بہترین کھانا تیار کیا ہے”۔ نرگش نے مزید لکھا کہ اپنی نیند پوری کرنے کے علاوہ ہم (ااپنے رومیٹس کے ساتھ) گانا گاتے ہیں اور ڈانس کرتے ہیں، جیسا لفظ عید کا مطلب ہی خوشی ہے”۔
عبد النومان نامی تارک وطن نے کا کہنا تھا کہ ” مجھے اپنی ماں کے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا یاد آتا ہے، مجھے اپنے بہن بھائیوں اور باپ کے ساتھ مسجد عید کی نماز کے لیے جانا اور اپنے دوستوں سےملنا یاد آتا ہے۔ میں اس سال بھی عید پر گھر جانے کو تیار تھا لیکن کورونا وائرس پھیل گیا اور میں ایسا نہیں کر پایا”۔

8 سال سے یو اے ای میں قیام پذٰیر ایک اور تارک وطن کا کہنا تھا کہ جس طرح ہم اپنے ملک میں عید مناتے تھے۔ میں ویسے ہی عید یو اے ای میں اپنے دوستوں کے ساتھ مناؤں گا، میرے دوست ہی اب میری فیملی ہیں۔
تارکین وطن ملازمین کے تحائف:
اس مشکل وقت میں خوشیاں سانجھی کرنے کے لیے کچھ آرگنائزیشنز تارکین وطن ورکرز میں تحائف بھی بانٹ رہی ہیں۔
جیسا کہ ایک یورپین کمپنی نے چھوٹے ملازمین میں تقریبا 4 ہزار سنیٹائزرز تقسیم کیے ہیں۔
اس طرح دبئی میں بھائی جان بریانی نامی فوڈ شاپ نے محنت کش افراد کی خوشی کے لیے انہیں بریانی کراچی اسٹریٹ اسٹائل کے بن کباب بلکل مفت دیے۔

Courtesy: Khaleej Times







