
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات کی مہمان نوازی اور ہوا بازی کا سفر 1932 میں شارجہ سے شروع ہوا جب بی او اے سی (BOAC) ریسٹ ہاؤس کی شکل میں ملک کا پہلا ہوٹل قائم کیا گیا۔ یہ ہوٹل شارجہ کے ابتدائی ایئر فیلڈ کے ساتھ بنایا گیا تھا اور برطانیہ سے بھارت اور آگے جانے والی پروازوں کے مسافروں اور عملے کے لیے آرام گاہ کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ اسے اُس وقت کی امپیریل ایئرویز (بعد میں BOAC) نے اپنے اسٹاپ اوور نیٹ ورک کا حصہ بنایا تھا۔
یہ گیسٹ ہاؤس مسافروں اور پائلٹس کو رات گزارنے کے لیے کمرے اور سادہ کھانے فراہم کرتا تھا، جب کہ اُس زمانے میں طویل فضائی سفر ایک نیا تجربہ تھا۔ 1933 میں یہاں کے صحن میں نصب ٹینکی کو آگ جلا کر گرم پانی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ بعد ازاں 1940 کی دہائی میں یہ جگہ فوجی افسران اور فضائی حکام کے قیام کا مرکز بھی بنی۔
آج یہی مقام المہتہ میوزیم کے طور پر جانا جاتا ہے جو شارجہ کی ہوا بازی کے ابتدائی کردار کو محفوظ کیے ہوئے ہے۔ یہاں پرانے ریسٹ ہاؤس کے کمروں کے ساتھ تاریخی کنٹرول ٹاور اور ایئرکرافٹ ہینگر بھی موجود ہیں، جہاں نایاب فضائی نوادرات اور پرانے جہاز رکھے گئے ہیں۔ زائرین کو 1930 کی دہائی کے فضائی سفر کا ماحول محسوس کرنے کا موقع ملتا ہے۔ جون 2025 تک یہ میوزیم تزئین و آرائش کے باعث بند کیا گیا ہے۔
1977 میں شارجہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے افتتاح کے بعد المہتہ کا کردار بدل گیا، اور 2000 میں اسے بحال کر کے میوزیم کے طور پر دوبارہ کھولا گیا۔ آج یہ ایک ثقافتی ورثہ ہے جو امارات کی شاندار فضائی تاریخ اور ترقی کا آئینہ دار ہے۔ 1932 کے سادہ گیسٹ ہاؤس سے لے کر موجودہ عالمی معیار کے ہوائی اڈوں اور لگژری ہوٹلوں تک، بی او اے سی ریسٹ ہاؤس اس سفر کی علامت ہے۔







