متحدہ عرب امارات

ایران جنگ کے تناظر میں امریکی فضائی دستوں کی ممکنہ تعیناتی، 82ویں ایئربورن ڈویژن پر غور، خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ

خلیج اردو
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران امریکی فضائی فوجی دستوں کی ممکنہ تعیناتی پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق اعلیٰ فوجی حکام 82ویں ایئربورن ڈویژن کے ایک بریگیڈ کو ایران کے خلاف ممکنہ آپریشنز کیلئے تیار رکھنے پر غور کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ دستہ تقریباً 3 ہزار اہلکاروں پر مشتمل ہوتا ہے اور دنیا کے کسی بھی حصے میں 18 گھنٹوں کے اندر تعینات کیا جا سکتا ہے، تاہم پینٹاگون اور یو ایس سینٹرل کمانڈ نے اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے توانائی کے انفراسٹرکچر پر ممکنہ حملوں کو عارضی طور پر پانچ دن کیلئے مؤخر کرنے کا اعلان کیا، یہ فیصلہ مبینہ طور پر ایران کے ساتھ مثبت مذاکرات کے بعد سامنے آیا۔

تاہم ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملوں کے بعد صورتحال دوبارہ کشیدہ ہو گئی، جبکہ تہران نے مزید حملوں کی صورت میں مشرق وسطیٰ کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دی ہے۔

رپورٹ میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ امریکی فوج خارگ جزیرہ جیسے اہم تیل کے مرکز پر کنٹرول حاصل کرنے کیلئے فضائی اور بحری دستے استعمال کر سکتی ہے، جہاں میرینز اور ایئربورن فورسز مشترکہ کارروائی کر سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق پیرا ٹروپرز فوری تعیناتی کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن بھاری ہتھیاروں کی کمی انہیں جوابی حملوں کے دوران کمزور بنا سکتی ہے، جبکہ میرین فورسز ابتدائی کارروائی کے بعد مزید کمک کی محتاج ہوتی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تمام امکانات "پروڈنٹ پلاننگ” کا حصہ ہیں، تاہم اگر یہ اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو خطے میں جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button