
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات کی فضا میں 10 جولائی کی شب فلک پر چمکتا ہوا ’بک مون‘ دیکھا جا سکے گا، جو موسم گرما کا پہلا مکمل چاند ہوگا۔ یہ فلکی مظہر دبئی فلکیاتی گروپ کے مطابق ہر سال جولائی میں نمودار ہوتا ہے اور اسے شمالی امریکا کی روایتی اقوام کے ناموں سے منسوب کیا گیا ہے۔
’بک مون‘ کو یہ نام اس لیے دیا گیا کہ جولائی کے مہینے میں نر ہرن (Buck) اپنے سینگ اُگانا شروع کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ چاند اکثر افق کے قریب ہوتا ہے جس کے باعث یہ زیادہ سنہری یا بڑا دکھائی دے سکتا ہے۔
موسم گرما میں شہاب ثاقب کی برسات
اگرچہ گرمیوں میں فلکی سرگرمیاں نسبتاً کم ہوتی ہیں، تاہم اگست میں ’پرسیڈز‘ شہابیہ شاور (Perseids Meteor Shower) آسمان کو روشن کر دے گی۔ اس شاور میں ہر گھنٹے میں تقریباً 150 سے 200 شہاب ثاقب دیکھے جا سکتے ہیں، جن میں سے کچھ ’فائر بالز‘ یعنی نہایت روشن شہاب ثاقب بھی ہوں گے۔
ماہر فلکیات خدیجہ کے مطابق فائر بال وہ شہاب ثاقب ہوتے ہیں جو سیارہ زہرہ سے بھی زیادہ روشن ہوتے ہیں اور بعض اوقات دھماکہ یا آواز بھی پیدا کر سکتے ہیں۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ شہاب ثاقب دیکھنے کے لیے وہ وقت منتخب کیا جائے جب آسمان پر چاند موجود نہ ہو کیونکہ چاندنی کی وجہ سے کمزور روشنی والے شہاب ثاقب دکھائی نہیں دیتے۔
ملکی وے دیکھنے کا بہترین موقع
جولائی کا مہینہ ملکی وے (Milky Way) کے مرکز کو دیکھنے کے لیے سب سے موزوں ہوتا ہے۔ ابوظہبی کے علاقے ’القا‘ کو اس کے مشاہدے کے لیے بہترین مقام قرار دیا گیا ہے۔ کہکشاں کا مشاہدہ کرنے کے خواہش مند افراد اسکائی میپ ایپ کی مدد سے ’اسکورپیئس‘ (Scorpius) برج کو تلاش کر کے ملکی وے کا پتہ لگا سکتے ہیں۔
صحرا میں فلکی مظاہر دیکھنے کے مشورے
دبئی فلکیاتی گروپ نے مشورہ دیا ہے کہ صحرا یا کسی دور دراز مقام پر جاتے ہوئے احتیاطی تدابیر ضرور اختیار کریں۔ وافر مقدار میں پانی اور ضروری سامان ساتھ رکھیں، گروپ کی صورت میں جائیں، اور کسی قریبی شخص کو اپنی روانگی اور واپسی کے بارے میں مطلع ضرور کریں تاکہ ہنگامی صورت میں مدد مل سکے۔







