متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں "لائف ٹائم گولڈن ویزا” کی افواہوں پر وضاحت، ریاد گروپ نے عوامی الجھن پر معذرت اور مکمل ذمہ داری قبول کرلی

خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں "لائف ٹائم گولڈن ویزا” کے متنازع دعووں کے معاملے پر دبئی کی معروف ریاد گروپ نے وضاحت دیتے ہوئے مکمل ذمہ داری قبول کر لی ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدام صرف مشاورتی تعاون کے لیے تھا، ویزا دینے کا کوئی اختیار ان کے پاس نہیں۔

ریاد گروپ کی طرف سے خلیج ٹائمز کو موصول ہونے والے بیان میں کہا گیا:
"ہم اس نام نہاد ’نامزدگی کی بنیاد پر گولڈن ویزا اسکیم‘ اور اس سے منسلک 1 لاکھ درہم کی مبینہ فیس سے متعلق حالیہ میڈیا رپورٹس اور عوامی بحث سے آگاہ ہیں۔”

گروپ نے وضاحت کی کہ یہ اقدام ان کے اور امیگریشن سروسز میں مہارت رکھنے والے لائسنس یافتہ شراکت داروں کے درمیان ایک ابتدائی مشاورتی تعاون تھا تاکہ ان افراد کے لیے مشورے کی سہولت فراہم کی جا سکے جو یو اے ای کی ترجیحات سے ہم آہنگ اور قانونی طور پر گولڈن ویزا کے اہل ہوں۔

ویزا کا فیصلہ صرف حکومتی دائرہ اختیار میں

ریاد گروپ نے واضح کیا کہ تمام ویزا فیصلے صرف متحدہ عرب امارات کی متعلقہ سرکاری اتھارٹیز کے اختیار میں ہیں، اور ان کا کردار صرف مشورہ دینے تک محدود رہا۔
"ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ ہماری سہولت دینے کی کوشش کسی قانونی حق یا شارٹ کٹ کی ضمانت نہیں دیتی، اور تمام درخواستیں قانونی اور حکومتی طریقہ کار کے تحت ہونی چاہییں۔”

گروپ نے وفاقی شناخت، شہریت، کسٹمز اور پورٹس سیکیورٹی اتھارٹی (ICP) کی حالیہ تردید کو سراہتے ہوئے کہا:
"ہم اس عوامی الجھن پر غیر مشروط معذرت خواہ ہیں اور آئندہ اپنے تمام بیانات کو زیادہ واضح، درست اور حکومتی ضوابط کے مطابق رکھیں گے۔”

منیجنگ ڈائریکٹر کے بیانات غلط کوٹ کیے گئے

ریاد گروپ نے اعتراف کیا کہ ان کے منیجنگ ڈائریکٹر کے کچھ عوامی بیانات غلط فہمی کا باعث بنے اور ان کا اصل مقصد یا دائرہ اختیار واضح نہیں ہوا۔
انہوں نے اعادہ کیا: "نہ کوئی گارنٹی شدہ ویزا، نہ فکسڈ پرائس اسکیم، نہ ہی لائف ٹائم رہائش جیسا کوئی منصوبہ موجود ہے، اور نہ ہی ریاد گروپ ایسے کسی پروگرام کی پیشکش یا توثیق کرتا ہے۔”

اس الجھن کی وجہ سے ریاد گروپ نے گولڈن ویزا سے متعلق اپنی نجی مشاورتی خدمات بند کرنے کا اعلان بھی کیا۔

وی ایف ایس ای ٹی ایم سروسز کی وضاحت

متنازع صورتحال میں شامل دوسری کمپنی، VFS ETM Services-FZCO نے بھی خلیج ٹائمز کو وضاحت دی کہ ان کا کردار صرف دلچسپی رکھنے والے افراد کو ریاد گروپ سے جوڑنے تک محدود تھا۔

بیان کے مطابق:
"ہم نے صرف ان افراد کو ریاد گروپ کی طرف ریفر کیا جو گولڈن ویزا اسکیم میں دلچسپی رکھتے تھے۔”

ICP کی سخت کارروائی کا عندیہ

8 جولائی کو ICP نے گولڈن ویزا سے متعلق گردش کرنے والی افواہوں کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ
تمام درخواستیں صرف حکومتی چینلز کے ذریعے دی جاتی ہیں اور نہ ہی کوئی اندرونی یا بیرونی مشاورتی ادارہ اس عمل میں مجاز ہے۔

ICP نے متنبہ کیا کہ غلط معلومات پھیلانے والے اداروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی، جو عوام کو گمراہ کرکے مالی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

عوام کیلئے ہدایت

عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ کسی بھی قسم کی ویزا معلومات یا اپلائی کرنے سے پہلے صرف ICP کی سرکاری ویب سائٹ یا کال سینٹر 600522222 سے رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button