متحدہ عرب امارات

کورونا کے شکار استاد پرعزم ، مہلک مرض نے انہیں فرائض کی ادائیگی سے نہیں روکا

خلیج اردو
06 اکتوبر 2020
دبئی: دبئی کے گلف ماڈل اسکول میں پڑھانے والےدو استاتذہ جب کورونا وائرس کا شکار ہوئے تو انہوں نے اپنے فراٗض منصبی سے غفلت نہیں برتی۔ دونوں استاذہ دبئی ہیلتھ اتھارٹی کے قرنطینہ سنٹر میں قرنطینہ کیے گئے ہیں۔

ریاضی کے استاد محمد محسن کا خیال ہے کہ ان کے شاگردوں کا وقت قیمتی بنانا اولین ترجیح ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ یہاں سے اپنے لیپ ٹاپ کے ذرئعے طلباء کو پڑھاتے رہے۔

بھارتی ریاست کرناٹا سے تعلق رکھنے والے محسن نے کہا کہ جب وہ بھارت سے دبئی آئے تو قت کے ساتھ اس کی طبیعت خراب ہوتی جارہی تھی۔ مجھے اسکول کی جانب سے کہا گیا کہ میں آرام کروں لیکن طلباء کا وقت قیمتی بنانے کیلئے میں نے چھٹی نہیں لیکن جب میں نے اپنا معائنہ کیا تو میرا کورونا کا ٹیسٹ پازیٹیو آیا اور مجھے قرنطینہ سنٹر میں الگ رکھا گیا۔

محسن نے بتایا کہ ٹیچنگ اس کا جنون ہے وہ اسے نوکری کی طرح نہیں لیتا۔ انہوں نے کہا کہ آئسولیشن سنٹر میں غیر ضروری خوف سے بچنے کیلئے وہ گریڈ 8 کے طلباء کو پڑھاتا رہا۔ پڑھاتا رہا اور اپنے شاگردوں کو نہیں بتایا کہ اسے کورونا وائرس کی بیماری ہے تاکہ وہ خوفزدوہ نہ ہوں ۔

ایک ایسے ہی فرض شناس استاد 50 سالہ جوسی کمار کا کہنا ہے کہ ان کا ایک روم میٹ جو ایئرپورٹ میں کام کرتا ہے ، وہ کورونا وائرس سے متائثر تھا، مجھے سر میں درد ہوتا رہا اور طبیعت ناساز تھی۔ جب اپنا معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ وئرس نے مجھے اپنی لپیٹ ،میں لیا ہےتاہم مجھے اپنے طالب علموں کی فکر تھی اور میں نے اپنے شاگروں کیلئے آٗسولیشن سنٹر سے انلائن کلاسز کا انتظام کیا۔

کیریلا سے تعلق رکھنے والے اس بہادر استاد کا کہنا ہے کہ محنتی استاد کے شاگرد بھی ایسے ہوتے ہیں۔ انہون نے کہا کہ سیکھنے کا عمل جاری رہنا چاہیے اس کیلئے طریقہ کار جو بھی ہو۔

Source: Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button