متحدہ عرب امارات

کورونا ویکسین کے تجربات میں حصہ لینے رضاکاروں کو بھی بیرون ملک سفر سے پہلے کورونا کا پی سی آر ٹیسٹ کروانا ہوگا، یو اے ای حکام

 

خلیج اردو آن لائن:

متحدہ عرب امارات کی نیشنل ایمرجنسی اینڈ کرائسز مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے بدھ کے روز وضاحت جاری کی گئی ہے کہ متحدہ عرب امارات میں جن افراد کو کورونا کی ٹرائل ویکسین لگائی گئی ہے اگر وہ افراد بیرون ملک سفر کر رہے ہیں تو اانہیں بھی کورونا کا پی سی آر ٹیسٹ کروانا ہوگا۔

متحدہ عرب امارات میں اس وقت قسم کے افراد کو کورونا کی آزمائشی ویکسین لگائی جا چکی ہے۔ ان دو گروپوں میں سے ایک گروپ ان رضاکاروں پر مشمتل ہے جنہوں جولائی میں شروع ہونے والے ویکسین کے تجربات کے لیے خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کیا تھا۔

اور دوسرا گروپ فرنٹ لائن ورکرز پر مشتمل ہےجنہیں 15 ستمبر کو اس آزمائشی ویکسین کے ایمرجنسی استعمال کی اجازت ملنے کے بعد نینشل ویکسینیشن پروگرام کے تحت  ویکسین لگائی گئی تھی۔

رضاکارانہ طور پر ویکسین لگوانے والے افراد کو کہاں پر کورونا پی سی آر ٹیسٹ کی رپورٹ پیش کرنا ہوگی اور کہاں پر نہیں؟

رضاکارانہ طور پر ویکسین لگوانے والے افراد کو ویکسین کی پہلی خوراک لگوانے کے بعد ابوظہبی میں داخل ہونے کے لیے کورونا ٹیسٹ کی منفی رپورٹ دیکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔

لیکن اگر انہی افراد میں سے کوئی شخص بیرون ملک سفر کر رہا ہے تو انہیں سفر سے پہلے کورونا کی منفی رپورٹ دیکھانا ہوگی اور یو اے ای پہنچنے پر انکا ایک اور کورونا پی سی آر ٹیسٹ کیا جائے گا۔ لیکن انہیں دیگر مسافروں کی طرح خود کو 14 دنوں کے لیے قرنطینہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

ویکسین کے ٹرائل میں شرکت کرنے والے افراد کو ہر 14 ویں دن کورونا کا ٹیسٹ کروانا ہوتا ہے جس کے بعد الہسن ایپ پر انکا اسٹیٹس بطور ویکسین رضاکار کے نظر آنے لگتا ہے۔

نینشل ویکسینیشن پروگرام کے تحت ویکسین لگوانے والے افراد کو کہاں کورونا ٹیسٹ کروانا ہوگا اور کہاں نہیں کروانا ہوگا؟

نینشل ویکسینیشن پروگرام کے تحت ویکسین لگوانے والے افراد کے لیے کورونا کے پی سی آر ٹیسٹ کی شرط ویکسین کی دوسری خوراک لگوانے کے 28 دن بعد شروع ہوتی ہے ناکہ ویکسین کی پہلی خوراک لگوانے کے بعد۔

اس کے بعد انہیں ابوظہبی میں داخلے کے لیے کورونا کے پی سی آر ٹیسٹ کی منفی رپورٹ دیکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

لیکن اگر وہ بیرون ملک گئے ہیں تو انہیں یو اے ای واپس آںے سے پہلے کورونا ٹیسٹ کی منفی رپورٹ دیکھانی ہوگی اور پھر یو اے ای پہنچنے پر بھی انکا ایک پی سی آر ٹیسٹ لیا جائے گا۔

تاہم، یو اے ای پہچنے کے چوتھے اور آٹھویں دن کورونا کا پی سی آر ٹیسٹ کروانا ہوگا۔ تاہم انہیں 14 دنوں کے لیے قرنطینہ ہونے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

تاہم وہ افردا جو ویکسین کے ٹرائل میں شرکت کر رہے ہیں نیشنل ویکسینیشن پروگرام میں بھی شامل ہیں تو انہیں ہر 14 دن بعد کورو کا پی سی آر ٹیسٹ کروانا ہوگا۔ جس سے الہسن ایپ پر انکا اسٹیٹس ایمرجنسی یوز میں تبدیل ہوگا۔

Source: Gulf News

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button