خلیج اردو
29 مئی 2020
ہنوئی : ویتنام میں کرونا وائرس کی ایک نئی قسم دریافت ہوئی ہے جو ہوا سے جلدی سے ایک دوسرے کو پھیلتی ہے۔ اس میں برطانوی ویئرینٹ بھی موجود ہے۔
ویتنام اس وقت کرونا وائرس سے نمٹنے میں پیش پیش ہے جہاں اس کی آدھی آبادی سے زیادہ میں پھیلا ہوا ہے۔ اس سے قبل اشتراکی ملک نے اپنے جارحانہ وبائی ردعمل کیلئے وسیع پیمانے پر تالیاں وصول کی ہیں ۔ ملک می بڑے پیمانے پر قرنطینہ اور سخت رابطے کی نشاندہی کرنے سے انفیکشن کی شرح نسبتا کم رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
انفیکشن کے نئے دور نے عوام اور حکومت کو خوف زدہ کردیا ہے اور حکام تیزی سے نقل و حرکت اور کاروباری سرگرمیوں پر سخت پابندیاں لگانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
کیفے ، ریستوراں ، ہیئر سیلون اور مساج پارلر نیز سیاحت اور مذہبی مقامات کو ملک کے مختلف علاقوں میں بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
ویتنام 97 ملین افراد پر مشتمل ملک ہے جہاں 10 لاکھ شہریوں کو کرونا ویکسین لگائی گئی ہے۔
Source : Khaleej Times







