
دبئی کے معروف ارب پتی کاروباری شخصیت محمد العبار نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال زیادہ عرصے تک برقرار نہیں رہ سکتی۔ ان کے مطابق علاقائی تنازع ختم ہونے کے بعد دبئی میں معمول کی صورتحال بحال ہونے میں 6 سے 7 ماہ لگ سکتے ہیں۔
ایمار پراپرٹیز اور ایگل ہلز کے چیئرمین محمد العبار نے مالدیپ میں ایگل ہلز کے 20 ارب ڈالر کے نئے منصوبے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا موجودہ صورتحال کو مسلسل برداشت نہیں کرسکتی۔
انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث بھارت اور چین جیسی بڑی معیشتوں پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق بھارت میں توانائی کے مسائل اور چین میں موجودہ صورتحال زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہ سکتی، جبکہ ایران بھی موجودہ حالت میں زیادہ عرصہ نہیں رہ سکتا۔
محمد العبار نے امید ظاہر کی کہ خطے میں سمجھدار اور حقیقت پسند لوگ صورتحال کو بہتر سمت میں لے جانے میں کردار ادا کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے اثرات عام خاندانوں تک پہنچ رہے ہیں اور خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔
دبئی کے کریک ٹاور منصوبے کے حوالے سے محمد العبار نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان صورتحال معمول پر آنے تک منصوبے پر پیش رفت روک دی گئی ہے۔ حالات بہتر ہونے کے بعد منصوبے کے لیے ٹینڈر جاری کرنے پر غور کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ایگل ہلز بھارت میں تقریباً 6 کلومیٹر طویل ساحلی علاقے پر ایک بڑے منصوبے میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لے رہی ہے۔ کمپنی مصر، سربیا، جارجیا اور دبئی میں بھی ساحلی اور واٹر فرنٹ منصوبوں پر کام کرچکی ہے۔
محمد العبار کے مطابق شام میں بھی ایک بڑے واٹر فرنٹ منصوبے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایگل ہلز اپنے سابقہ تجربے کی بنیاد پر شام میں رہائشیوں کے لیے ایک منفرد طرز زندگی کا منصوبہ تیار کرنا چاہتی ہے۔
ایگل ہلز کی ممکنہ اسٹاک مارکیٹ لسٹنگ کے بارے میں محمد العبار نے کہا کہ کمپنی کا ابتدائی عوامی پیشکش، یعنی آئی پی او، کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں۔ ان کے مطابق ایگل ہلز کے متحدہ عرب امارات سے باہر تقریباً 29 منصوبے ہیں اور کمپنی مستقبل میں بھی نئے سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرتی رہے گی۔







