متحدہ عرب امارات

دبئی میں شیخ احمد بن راشد المکتوم 76 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ ان کے انتقال پر دبئی میں 10 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے دوران امارت بھر میں پرچم سرنگوں رکھے جائیں گے۔

خلیج اردو
دبئی میں شیخ احمد بن راشد المکتوم 76 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ ان کے انتقال پر دبئی میں 10 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے دوران امارت بھر میں پرچم سرنگوں رکھے جائیں گے۔

شیخ احمد بن راشد المکتوم متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کے چھوٹے بھائی اور دبئی کے سابق حکمران شیخ راشد بن سعید المکتوم کے چوتھے اور سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔

انہوں نے برطانیہ کی رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ سے تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں دبئی کی سینٹرل ملٹری کمانڈ میں خدمات انجام دیں، جہاں وہ بعد میں کمانڈر ان چیف کے عہدے تک پہنچے۔

شیخ احمد بن راشد المکتوم دبئی پولیس اور پبلک سکیورٹی کے ڈپٹی چیئرمین، اے آر ایم ہولڈنگ کے چیئرمین اور الوصل اسپورٹس کلب کے صدر بھی رہے۔

گھڑ دوڑ کے شعبے میں بھی ان کا نمایاں کردار تھا۔ انہوں نے ٹرینر دھروبا سیلوراتنم کے ساتھ مل کر جبل علی ریس کورس کے تکنیکی ڈیزائن کی تیاری میں کردار ادا کیا۔ ریس کورس اور گرینڈ اسٹینڈ 1990 میں تعمیر ہوئے جبکہ پہلی ریسنگ سیزن 1991 میں منعقد ہوئی۔

شیخ احمد بن راشد المکتوم جبل علی اسٹیبلز کے مالک بھی تھے۔ امارات ریسنگ اتھارٹی کے اعداد و شمار کے مطابق بطور مالک ان کے گھوڑوں نے 4 ہزار 475 ریسز میں 614 کامیابیاں حاصل کیں۔

وہ 1960 کی دہائی کے اوائل سے الوصل اسپورٹس کلب سے وابستہ تھے، جب کلب کو الزمالک کے نام سے جانا جاتا تھا۔ کلب کی ویب سائٹ کے مطابق انہوں نے اس کے بورڈ کی سربراہی بھی کی۔

کاروباری شعبے میں شیخ احمد بن راشد المکتوم اے آر ایم ہولڈنگ کے چیئرمین تھے۔ نجی سرمایہ کاری کمپنی کے کاروباری مفادات میں رئیل اسٹیٹ، مہمان نوازی اور بینکنگ کے علاوہ ہیلتھ ٹیک، پائیدار خوراک، موبیلٹی، فن ٹیک اور ثقافتی منصوبے بھی شامل ہیں۔

ان کے زیر سرپرستی دبئی ریئل اسٹیٹ سینٹر نے کئی اہم منصوبے مکمل کیے، جن میں 1993 میں جمیرہ کی بیچ روڈ پر قائم ہونے والا دی بیچ سینٹر اور الصفوح میں دبئی کی پہلی گیٹڈ کمیونٹی پام اسپرنگ ولیج شامل ہیں۔ کمپنی کے مطابق پام اسپرنگ ولیج میں 145 ولاز شامل ہیں۔

شیخ احمد بن راشد المکتوم کی خدمات دبئی کے سکیورٹی، کھیل، گھڑ دوڑ اور کاروباری شعبوں تک پھیلی ہوئی تھیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button