متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں جعلی برانڈڈ اشیا کی فروخت سے حاصل رقم سفید کرنے پر دو ایشیائی افراد کو ایک سال قید، دس لاکھ درہم جرمانہ اور ملک بدری کی سزا

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی ایک عدالت نے جعلی برانڈڈ مصنوعات کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کو سفید کرنے کے جرم میں دو ایشیائی افراد کو مجرم قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے دونوں کو ایک سال قید اور دس لاکھ درہم جرمانے کی سزا سنائی۔

فیڈرل کورٹ آف فرسٹ انسٹینس کے فیصلے کے مطابق ملزمان نے جعلی برانڈڈ اشیا کی فروخت سے حاصل ہونے والی دس لاکھ درہم کی رقم کو مختلف بینک اکاؤنٹس کے ذریعے جمع، نکالنے اور منتقل کرنے کی کوشش کی تاکہ اس کے اصل ذرائع کو چھپایا جا سکے۔

استغاثہ کے مطابق دونوں افراد کو معلوم تھا کہ یہ رقم غیر قانونی سرگرمی سے حاصل ہوئی ہے، اس کے باوجود انہوں نے لین دین اس انداز میں کیا کہ رقم کے اصل ماخذ اور نوعیت کو چھپایا جا سکے۔

عدالت نے شواہد کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ منی لانڈرنگ کے الزامات ثابت ہو چکے ہیں۔ عدالت نے سزا کے ساتھ ساتھ ملزمان کے بینک اکاؤنٹس سے برآمد ہونے والی دس لاکھ درہم رقم ضبط کرنے کا بھی حکم دیا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ دونوں افراد کو سزا مکمل کرنے کے بعد ملک بدر کر دیا جائے گا اور انہیں تمام عدالتی اخراجات بھی ادا کرنا ہوں گے۔

جج نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگرچہ رقم نسبتاً کم ہو، لیکن جب وہ غیر قانونی تجارت جیسے جعلی مصنوعات کی فروخت سے جڑی ہو اور اسے چھپانے کی کوشش کی جائے تو قانون کے تحت اسے سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔

حکام کے مطابق یہ فیصلہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ متحدہ عرب امارات میں منی لانڈرنگ اور جعلی تجارت کے خلاف سخت قوانین نافذ ہیں اور اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button